پولیس ریکارڈ کے مطابق لاہور میں 251 پُرتشدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ شیخوپورہ میں 178، منڈی بہاؤالدین میں 190، راولپنڈی میں 155 پُرتشدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ فیصل آباد میں 143، گوجرانوالہ میں 135، سیالکوٹ میں 128 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ ہنگامہ آرائی، تھوڑ پھوڑ، پولیس پر حملوں سمیت دیگر وجوہات پر پنجاب بھر کے تھانوں میں 76 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ٹی ایل پی کے پُرتشدد مظاہرین کیخلاف مقدمات اور گرفتاریوں کی تفصیلات سامنے آگئیں۔ پولیس نے توڑ پھوڑ کرنیوالے 2 ہزار 716 پُرتشدد مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جبکہ لاہور میں 39 سمیت پنجاب بھر میں 76 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ پو لیس ریکارڈ کے مطابق لاہور میں 251 پُرتشدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ شیخوپورہ میں 178، منڈی بہاؤالدین میں 190، راولپنڈی میں 155 پُرتشدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ فیصل آباد میں 143، گوجرانوالہ میں 135، سیالکوٹ میں 128 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔

ہنگامہ آرائی، تھوڑ پھوڑ، پولیس پر حملوں سمیت دیگر وجوہات پر پنجاب بھر کے تھانوں میں 76 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ 39 مقدمات لاہور میں  درج ہوئے جبکہ شیخوپورہ میں 8 مقدمات درج ہوئے۔ پنجاب بھر میں پُرتشدد مظاہرین کے حملوں سے 250 پولیس افسران اور اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ ایک پولیس انسپکٹر شہید ہوا۔ لاہور میں سب سے زیادہ 142 افسران اور اہلکار زخمی ہوئے۔ مقدمات کو مدنظر رکھ کر مزید ملزمان کی گرفتاریاں جاری ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پ رتشدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا مقدمات درج لاہور میں

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار