سیلاب سے کسان شدید متاثر، ملک بھر میں ایک لاکھ ایکڑ زمین دوبارہ آباد کرنے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
لاہور:
ملک میں حالیہ بارشوں کے دوران سیلاب سے کسان شدید متاثر ہوئے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق دو ملین ایکڑ سے زائد زرعی زمین سیلاب کی نذر ہو کر برباد ہو چکی ہے تاہم سماجی تنظیم رزق نے اعلان کیا ہے کہ وہ پورے ملک میں ایک لاکھ ایکڑ زمین دوبارہ آباد کرنے کا منصوبہ شروع کر رہی ہے۔
سماجی تنظیم رزق کے بورڈ کے چیئرمین میاں فاروق احمد نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت پنجاب کے مختلف اضلاع میں 20 ہزار چھوٹے کسانوں کو بنا سود کے قرضے فراہم کیے جائیں گے، یہ قرضے زرعی اجزا، فصلوں کی تیاری اور تربیت کی صورت میں دیے جائیں گے تاکہ گندم کے موسم سے پہلے کسان دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کا پہلا مرحلہ ضلع خانیوال سے شروع ہو چکا ہے، جسے آئندہ مرحلوں میں مظفرگڑھ، ملتان اور بہاولپور سمیت دیگر اضلاع تک بڑھایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اس سال کے دریائی سیلاب نے چاول، مکئی، گنے اور سبزیوں سمیت متعدد فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے، جس کا اثر غذائی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کی شکل میں عام شہریوں تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 15 اکتوبر سے خانیوال میں پروگرام کے نئے مرحلے کا آغاز کیا گیا، جہاں 100 سے زائد مقامی کسانوں کو شامل کیا گیا اور زمین کی ہمواری کا کام ٹریکٹروں کے ذریعے شروع ہوا۔
انہوں نے کہا کہ سیڈنگ گڈ مہم کے پہلے مرحلے میں 10 ہزار ایکڑ زمین کی بحالی کا ہدف رکھا گیا ہے۔
میاں فاروق احمد نے کہا کہ یہ اقدام صرف سیلاب کا جواب نہیں بلکہ ان لوگوں کو سہارا دینے کی کوشش ہے جو دہائیوں سے خاموشی سے اس ملک کی معیشت کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ رزق کا مقصد کسانوں کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنی زمین اور اپنی محنت پر فخر کے ساتھ کھڑے ہو سکیں۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سری لنکا، سمندری طوفان، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 123 ہوگئی
سری لنکن محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی اور جنوبی علاقے جو پہلے سے ہی سیلاب سے متاثرہ ہیں، وہاں مزید سیلاب متوقع ہے، جبکہ دارالحکومت کولمبو میں بھی سیلاب کا خطرہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سری لنکا میں سمندری طوفان دتوا کے باعث شدید بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 123 ہوگئی۔ سری لنکا کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر نے 123 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طوفانی بارشوں کے باعث اب تک 130 افراد لاپتا ہیں۔ غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اموات لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے ہوئی ہیں، شمالی اور مشرقی علاقوں میں 300 ملی میٹر تک ہونے والی بارش لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ بنی۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق طوفان اور سیلابی صورتحال کے سبب ملک بھر میں 44 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ افراد کو اسکولوں اور پبلک مقامات میں منتقل کیا گیا ہے۔ سری لنکن محکمہ آبپاشی کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی اور جنوبی علاقے جو پہلے سے ہی سیلاب سے متاثرہ ہیں، وہاں مزید سیلاب متوقع ہے، جبکہ دارالحکومت کولمبو میں بھی سیلاب کا خطرہ ہے۔ حکام کے مطابق سیلاب کے باعث متعدد افراد نے گھروں کی چھتوں پر پناہ لے رکھی تھی، جنہیں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ریسکیو کیا گیا ہے۔