لاہور:

ملک میں حالیہ بارشوں کے دوران سیلاب سے کسان شدید متاثر ہوئے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق دو ملین ایکڑ سے زائد زرعی زمین سیلاب کی نذر ہو کر برباد ہو چکی ہے تاہم سماجی تنظیم رزق نے اعلان کیا ہے کہ وہ پورے ملک میں ایک لاکھ ایکڑ زمین دوبارہ آباد کرنے کا منصوبہ شروع کر رہی ہے۔

سماجی تنظیم رزق کے بورڈ کے چیئرمین میاں فاروق احمد نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت پنجاب کے مختلف اضلاع میں 20 ہزار چھوٹے کسانوں کو بنا سود کے قرضے فراہم کیے جائیں گے، یہ قرضے زرعی اجزا، فصلوں کی تیاری اور تربیت کی صورت میں دیے جائیں گے تاکہ گندم کے موسم سے پہلے کسان دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کا پہلا مرحلہ ضلع خانیوال سے شروع ہو چکا ہے، جسے آئندہ مرحلوں میں مظفرگڑھ، ملتان اور بہاولپور سمیت دیگر اضلاع تک بڑھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اس سال کے دریائی سیلاب نے چاول، مکئی، گنے اور سبزیوں سمیت متعدد فصلوں کو نقصان پہنچایا ہے، جس کا اثر غذائی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کی شکل میں عام شہریوں تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 15 اکتوبر سے خانیوال میں پروگرام کے نئے مرحلے کا آغاز کیا گیا، جہاں 100 سے زائد مقامی کسانوں کو شامل کیا گیا اور زمین کی ہمواری کا کام ٹریکٹروں کے ذریعے شروع ہوا۔

انہوں نے کہا کہ سیڈنگ گڈ مہم کے پہلے مرحلے میں 10 ہزار ایکڑ زمین کی بحالی کا ہدف رکھا گیا ہے۔

میاں فاروق احمد نے کہا کہ یہ اقدام صرف سیلاب کا جواب نہیں بلکہ ان لوگوں کو سہارا دینے کی کوشش ہے جو دہائیوں سے خاموشی سے اس ملک کی معیشت کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رزق کا مقصد کسانوں کو بااختیار بنانا ہے تاکہ وہ اپنی زمین اور اپنی محنت پر فخر کے ساتھ کھڑے ہو سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری

دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔  

اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔ 

 اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ 

 اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔ 

صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی