میکسیکو میں تباہ کن سیلاب، 130 افراد ہلاک یا لاپتا ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
میکسیکو کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے جہاں اب تک کم از کم 64 افراد کی ہلاکت اور 65 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: میکسیکو میں ایک جہاز دوسرے کی چھت پر لینڈ کرتے کرتے بچ گیا، ایوی ایشن سیفٹی پر سوالات
غیر ملکی میڈیا کے مطابق درجنوں دیہی بستیاں بدستور سڑکوں سے کٹی ہوئی ہیں اور متاثرہ افراد تک امداد پہنچانا ایک چیلنج بن چکا ہے۔
گزشتہ ہفتے شدید موسلا دھار بارشوں نے میکسیکو کے کئی ریاستوں کو لپیٹ میں لے لیا تھا جس کے نتیجے میں سڑکیں دریا بن گئیں، کئی پل اور راستے بہہ گئے اور زمین کھسکنے کے واقعات نے مزید تباہی پھیلائی۔
ہزاروں فوجی اہلکار کاموں میں مصروفصدر کلاڈیا شینباؤم نے پیر کے روز بتایا کہ حکومت نے 10 ہزار فوجی اہلکاروں کو امدادی کاموں کے لیے تعینات کیا ہے جنہیں کشتیوں، طیاروں اور ہیلی کاپٹرز کی مدد حاصل ہے۔
ان اہلکاروں کا کام متاثرین کو خوراک، پانی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
صدر نے مزید کہا کہ بہت سے مقامات تک صرف فضائی ذریعے سے ہی رسائی ممکن ہے اور وہاں مسلسل پروازوں کے ذریعے کھانے اور پانی کی ترسیل کی جا رہی ہے۔
ریاست ہائیڈالگو سب سے زیادہ متاثرمیکسیکو کی شہری دفاعی اتھارٹی کی سربراہ لورا ویلازکیز کے مطابق، ریاستیں وراکروز، ہائیڈالگو اور پویبلا سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ صرف ہائیڈالگو میں 43 افراد لاپتا ہیں۔
یہ ہلاکتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں صرف 12 گھنٹے قبل ہلاکتوں کی تعداد 47 تھی جو اب بڑھ کر 64 ہو چکی ہے جو بحران کی سنگینی کا پتا دیتی ہے۔
ہائیڈالگو کی میونسپلٹی تینانگو دے ڈوریا میں مقامی افراد خوراک اور پانی کی تلاش میں کئی کئی کلومیٹر پیدل سفر کر رہے ہیں کیونکہ سڑکیں مکمل طور پر زیرِ آب آ چکی ہیں۔
مزید پڑھیے: ٹرمپ کا یورپی یونین اور میکسیکو پر 30 فیصد ٹیرف کا اعلان، تجارتی کشیدگی میں اضافہ
35 سالہ کسان مارکو مینڈوزا نے بتایا کہ ہم نے سوا 2 گھنٹے کیچڑ میں پیدل سفر کیا لیکن کچھ نہیں ملا اور سب کچھ برباد ہو چکا ہے ہمارے پاس نہ راشن ہے اور نہ پانی ہے۔
بیشتر دکانیں بند ہیں یا بجلی سے محروم جبکہ لوگ مرکزی چوک میں جمع ہو کر امدادی سامان اور راستوں کے کھلنے کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔
یہ غیر متوقع صورتحال تھی، ماہرینماہرین کے مطابق گزشتہ ہفتے کی شدید بارشیں خلیج میکسیکو سے آنے والے ایک ٹروپیکل سسٹم اور شمالی سرد ہواؤں کے تصادم کا نتیجہ تھیں۔ ان غیر معمولی موسمی حالات نے بارش کو نہ صرف شدید بنایا بلکہ زمین کھسکنے اور دریاؤں کے کنارے ٹوٹنے جیسے خطرات بھی پیدا کیے۔
وراکروز میں ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو پہلے ہی جمعہ کے روز انخلا کے احکامات جاری کیے جا چکے تھے۔
حکومت پر قبل از وقت وارننگ نہ دینے پر سوالاتصحافیوں کی جانب سے ابتدائی وارننگ سسٹم کی ناکامی پر سوالات اٹھائے گئے جس پر صدر شینباؤم نے جواب دیا کہ یہ طوفانوں جیسی پیش گوئی کے قابل صورتحال نہیں تھی اس میں کئی غیر متوقع عوامل شامل تھے۔
مزید پڑھیں: میکسیکو: دنیا میں پہلی مرتبہ جج عوامی ووٹ سے منتخب، ووٹرز الجھن کا شکار
اتوار کے روز موسم بہتر ہونے کے بعد ہیوی مشینری کی مدد سے سڑکیں صاف کرنے کا کام تیز کر دیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
میکسیکو میکسیکو سیلاب میکسیکو طوفانی بارشیں میکسیکو ہلاکتیں.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: میکسیکو میکسیکو سیلاب میکسیکو طوفانی بارشیں
پڑھیں:
سری لنکا میں سیلاب کے باعث ہلاکتیں 56 تک پہنچ گئیں، دفاتر اور اسکولز بند
سری لنکا میں سیلاب اور زمین کھسکنے کے حادثات کے باعث اموات کی تعداد 56 ہو گئی ہے، جبکہ 600 سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔
حکام کے مطابق، اس شدید صورتحال کے پیش نظر حکومت نے تمام سرکاری دفاتر اور اسکول بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:میکسیکو میں تباہ کن سیلاب، 130 افراد ہلاک یا لاپتا ہوگئے
سری لنکا میں شدید موسم کے اثرات گزشتہ ہفتے سے دیکھے جا رہے ہیں اور جمعرات کو موسلا دھار بارشوں کے باعث حالات مزید خراب ہو گئے تھے۔
At least 31 people have died in Sri Lanka after heavy rains triggered floods and landslides, with another 14 still missing.
Roads have been closed in affected areas, and overflowing rivers and reservoirs continue to block key routes.
Residents are urged to stay safe and move… pic.twitter.com/Dy6Ux2GtTr
— Volcaholic ???? (@volcaholic1) November 27, 2025
ان بارشوں نے گھروں، کھیتوں اور سڑکوں کو زیرِ آب کر دیا اور ملک کے مختلف حصوں میں زمین کھسکنے کے واقعات کو جنم دیا۔
گزشتہ روز دارالحکومت کولمبو سے تقریباً 300 کلومیٹر مشرق میں واقع اور چائے کی پیداوار کے لیے مشہور بادولا اور نوورا ایلیا کے وسطی پہاڑی علاقوں میں زمین کھسکنے کے باعث 25 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔
حکومت کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق، بادولا اور نوورا ایلیا میں مزید 21 افراد لاپتا اور 14 زخمی ہوئے ہیں، ملک کے دیگر حصوں میں بھی زمین کھسکنے کے واقعات میں مزید افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
شدید موسم کے باعث زیادہ تر ڈیم اور دریاؤں میں پانی کی سطح حد سے تجاوز کر گئی ہے جس کی وجہ سے سڑکیں بند ہو گئی ہیں۔
حکام نے کئی حصوں میں مسافر ٹرینیں روک دی ہیں اور سڑکیں بند کر دی ہیں، کیونکہ راستوں اور ریلوے ٹریکس پر پتھر، مٹی اور درخت گر گئے۔
مقامی ٹیلی ویژن پر جمعرات کو دیکھا گیا کہ فضائیہ کے ہیلی کاپٹر نے سیلاب سے گھِرے گھر کی چھت پر پہنچ گئے اور 3 افراد کو بچایا۔
جبکہ بحریہ اور پولیس نے کشتیوں کے ذریعے مقامی باشندوں کو محفوظ مقام تک پہنچایا۔
جمعرات کو مشرقی شہر امپارہ کے قریب ایک گاڑی بھی سیلاب کے پانی میں بہہ گئی، جس کے نتیجے میں 3 مسافر جاں بحق ہوئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر سری لنکا سیلاب ہلاکت