ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) فیصل کامران نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی ہمیشہ جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہ کرتی ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کے دوران فیصل کامران نے کہا کہ سعد رضوی کو ٹریس کرلیا گیا ہے کہ کہاں کہاں ٹھہرے اور کہاں کہاں گئے۔

حکومت کا ٹی ایل پی واقعے پر جعلی خبروں کیخلاف بڑا ایکشن

وفاقی حکومت نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) واقعے پر جعلی خبروں کے خلاف بڑا ایکشن شروع کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعد رضوی پولیس کے پاس نہیں، کوشش ہے کہ جلد ٹریس کرکے سامنے لائیں، گولی لگی ہے تو ثبوت دکھائیں تاکہ اس کے مطابق کارروائی ہو۔

ڈی آئی جی نے مزید کہا کہ یہ ہر احتجاج میں اس طرح بڑھا چڑھا کر اعداد و شمار بتاتے ہیں، یہ ہمیشہ جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ون فائیو پر ہمیں لوگوں کی کالز آئیں کہ مظاہرین نے ان کی گاڑیاں چھینی ہیں، ان کے پاس جو ڈنڈے ہوتے ہیں ان پر کیلیں لگی ہوتی ہیں۔

مذہبی جماعت کی قیادت کیخلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مذہبی جماعت کی قیادت کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کردیں۔

فیصل کامران نے یہ بھی کہا کہ پولیس کے زخمیوں کی حالت دیکھیں، ایسے جتھوں سے نمٹنا آسان کام نہیں، مظاہرین کے تشدد سے 60 کے قریب پولیس اہلکار معذور ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں اور ایس ایچ او کو گولی لگے گی تو کیا ریاست خاموش رہے گی، جہاں جہاں یہ احتجاج کرتے ہوئے گئے 3 افراد شہید 300 سے زائد زخمی ہوئے۔

جتھوں سے بلیک میلنگ اب برداشت نہیں کی جائے گی، طلال چوہدری

وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ جتھوں کی بلیک میلنگ برداشت نہیں کی جائے گی ۔

ڈی آئی جی نے کہا کہ ہماری ان سے بات چیت ہوئی، ہم نے پوچھا کہ کس چیز پر احتجاج کررہے ہیں، انہیں بتایا کہ غزہ میں تو لوگ خوش ہیں آپ کس بات پر احتجاج کررہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے کہا فلسطین کے لیے ریلی نکالنی ہے تو وہ کرلیں، یہ بضد تھے کہ ہم احتجاجی مارچ لے کر جائیں گے، لاہور سے جب یہ نکل رہے تھے تب تک بھی ہمارے 112 اہلکار زخمی تھے۔

فیصل کامران نے کہا کہ شاہدرہ میں مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا، وہاں مظاہرین نے پولیس پر سیدھی فائرنگ کی، جتنی ضروری تھی کارروائی کرنا پڑی، بہت سوچ سمجھ کر کارروائی کی گئی، ہمارے پاس اس وقت کوئی لاش موجود نہیں، اسپتال سے بھی کسی لاش کی اطلاع نہیں ملی۔

.

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: فیصل کامران نے ڈی ا ئی جی ٹی ایل پی نے کہا کہ

پڑھیں:

’ڈیٹا لیک‘ سے متعلق صحافی اعزاز سید کے دعوے بنیاد اور گمراہ کن قرار

سیکیورٹی ذرائع نے نادرا سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق صحافی اعزاز سید کے دعوے کو مکمل طور پر بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کی ہے۔ یہ دعویٰ اعزاز سید نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک پروگرام میں، اور ایک دوسرے پروگرام میں صحافی عمر چیمہ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا تھا، جس پر سیکیورٹی حلقوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی فیلڈ مارشل بہت اہم شخصیت ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کی جنرل عاصم منیر کی پھر تعریف

سیکیورٹی ذرائع نے نادرا سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ڈیٹا لیک ہونے سے متعلق صحافی اعزاز سید کے حالیہ دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے اسے گمراہ کن قرار دیا ہے۔

نجی ٹی وی سے وابستہ صحافی اعزاز سید نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک پروگرام میں، اور ایک دوسرے پروگرام میں صحافی عمر چیمہ سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا تھا کہ کچھ عرصہ قبل ایک خبر رپورٹ ہوئی تھی جس پر پارلیمنٹ میں انکوائری کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی اس معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا تھا۔

اعزاز سید کے مطابق نادرا سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا ڈیٹا لیک ہوا تو ابتدا میں اس بات پر یقین نہیں کیا جا رہا تھا کہ آرمی چیف جیسی انتہائی حساس شخصیت کا ڈیٹا کس طرح لیک ہوسکتا ہے، مگر بعد میں یہ بات درست ثابت ہوئی۔

اعزاز سید کا کہنا تھا کہ اس وقت ان کے ذرائع نے سختی سے منع کیا تھا کہ وہ متعلقہ افراد کے نام ظاہر نہ کریں کیونکہ اس کا تمام بوجھ ایک ہی شخص پر آجائے گا۔ تاہم اب جب کہ وہ متعلقہ عہدیدار اپنے عہدے پر موجود نہیں رہے، اس لیے وہ یہ بات سامنے لا رہے ہیں کہ ڈیٹا لیک معاملے میں جن ناموں کا ذکر آیا، ان میں ایک نام سابق چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کا بھی شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں:فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر ہی اب کشمیریوں کی آخری امید ہیں، مشعال ملک

انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ برا نہ مانیں تو یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس انکوائری میں پرانی شخصیات کے نام بھی آئے ہیں۔ ان کے مطابق انکوائری کے دوران 2 سابق اعلیٰ فوجی افسران کے نام بھی سامنے لائے گئے، اور یہ بات ریکارڈ پر ہے۔ ان میں سابق لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس کا نام بھی شامل تھا، جبکہ سابق لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا نام بھی زیرِ تحقیق معاملات میں سامنے آیا۔

اعزاز سید کے مطابق اب آئندہ چند دنوں میں شواہد کی جانچ پڑتال اور ان کی باہمی مطابقت کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ تحقیقات کا حتمی نتیجہ کیا بنتا ہے۔ تاہم جو تفصیلات اب تک سامنے آئی ہیں، وہ انکوائری ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

وی نیوز نے اس حوالے سے سیکیورٹی ذرائع سے بات کی تو سیکیورٹی ذرائع نے اعزاز سید کے دعوے کو سختی سے مسترد کیا اور اسے پروپیگنڈا قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جنرل اطہر عباس جنرل ساحر شمشاد جنرل عاصم جنرل فیض حمید ڈیٹا لیک نادرا

متعلقہ مضامین

  • ایجنٹ مافیا پیسوں کے لالچ میں معصوم لوگوں کے مستقبل سے کھیل رہا ہے: محسن نقوی
  • اسکول جاتے ہوئے اغوا کی گئی 14 سالہ طالبہ کو ملزم ورغلا کر کہاں لے گیا؟ ویڈیو دیکھیں
  • گورنر سندھ کو ہٹانا ناممکن تو نہیں، لیکن اتنا آسان بھی نہیں
  • ’ڈیٹا لیک‘ سے متعلق صحافی اعزاز سید کے دعوے بنیاد اور گمراہ کن قرار
  • کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب مجھے آپ کی یاد نہ آئی ہو، انوشے عباسی کا مرحوم والدہ کیلیے جذباتی پیغام
  • کراچی، ہندو برادری کا بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ
  • معروف ڈانسر مہک ملک نے پی ایس ایل فیصل آباد کی ٹیم خرید لی؟
  • بانی  پی ٹی آئی کو لانے   والے  بھی  قصور وار  ‘ جھوٹ  کو شکست  ہوئی  : نواز  شریف  : لوگو ں کو  اصل  ِ نقل  کا  پتہ  چل  گیا : مریم  نواز
  • اتوار کے ضمنی انتخابات میں ووٹرز ٹرن آؤٹ؛ افواہیں جھوٹ نکلیں، اصل اعداد و شمار سامنےآگئے
  • گورنر سندھ کامران ٹیسوری سے استعفیٰ طلب کئے جانے کی خبریں زیر گردش