پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے فیصلے کی خبروں کے بعد علی امین گنڈا پور کا ردعمل سامنے آگیا۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا کہ انہیں ابھی وزارت اعلیٰ چھوڑنے کی کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی، وزارت اعلیٰ پارٹی اور عمران خان کی امانت ہے، جب کہیں گے چھوڑ دوں گا۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جب مجھے کہا جائے گا کہ وزارت اعلیٰ چھوڑ دو تو اس کی تعمیل کروں گا۔انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ  جیل میں رہنماؤں کی ملاقات جاری ہے،ملاقات کے بعد پارٹی رہنما صورتحال واضح کر دیں گے۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا  کو ہٹانے سے متعلق  خبروں پر بیرسٹر گوہر کا بیان بھی آ گیا 

اس سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ  پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔پی ٹی آئی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا لگائے جانے کا امکان ہے۔ سہیل آفریدی اس وقت خیبرپختونخوا کے وزیر برائے ہائر ایجوکیشن ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے ذمہ داران نے تاحال ان دعووں کی تردید یا تصدیق نہیں کی ہے تاہم بشریٰ بی بی کے وکیل رائے سلیمان نے علی امین گنڈاپور کو ہٹائے جانے کی تصدیق کی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہرکا کہنا ہےکہ وزیراعلیٰ علی امین کو ہٹائے جانے سے متعلق ابھی تک مجھےکوئی اطلاع نہیں۔

بھارتی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دیا جائیگا، ’’نیو نارمل‘‘ کا مقابلہ نئے، تیز اور مؤثر جوابی نارمل سےکیا جائیگا: کورکمانڈرزکانفرنس

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور ہٹائے جانے وزارت اعلی وزیر اعلی

پڑھیں:

کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔

3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔

عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔

دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔

تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ