کراچی میں ٹی ایل پی کا احتجاج، ہنگامہ آرائی( 10 گرفتار، دو بچے زخمی)
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
نیو کراچی سندھ ہوٹل، نالہ اسٹاپ ، 4 کے چورنگی پر پتھراؤ کرکے گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے
پولیس کی شہر کے مختلف مقامات پر دھرنے اور دکانیں بند کرنے سے متعلق خبروں کی تردید
(رپورٹ : افتخار چوہدری)پنجاب کے بعد کراچی کے مختلف علاقوں میں بھی ٹی ایل پی نے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کی جس کے باعث دو بچے زخمی ہوگئے اور 10 افراد کو گرفتار کر لیا گیا، احتجاج کے باعث متعدد سڑکیں بند ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔نیو کراچی میں نالہ اسٹاپ پر تحریک لبیک کے کارکنان نے احتجاج کیا، جہاں مشتعل افراد نے پتھراؤ کرکے گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے۔نارتھ کراچی 4 کے چورنگی پر بھی تحریک لبیک کے کارکنان نے احتجاج کیا، مشتعل افراد نے سڑک ٹریفک کے لیے بند کی جس کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا رہا۔ڈی آئی جی ویسٹ، عرفان علی بلوچ کے مطابق پولیس نے احتجاج، پھتراؤ اور جلاو گھیراو کرنے والے افراد کو شیلنگ کرکے منتشر کر دیا۔نیو کراچی سندھ ہوٹل اور فور کے چورنگی کے اطراف صورتحال پر قابو پا لیا گیا جبکہ ٹریفگ بھی بحال کروا دی گئی۔ڈی آئی جی ویسٹ نے بتایا کہ احتجاج، پھتراؤ اور جلاو گھیراو کرنے والے 5 افراد کو گرفتار کر لیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات ہے۔دوسری جانب، کراچی پولیس نے سوشل میڈیا پر شہر کے مختلف مقامات پر دھرنے اور دکانیں بند کرنے سے متعلق خبروں کی تردید کر دی۔کراچی پولیس کی بھاری نفری مختلف مقامات پر تعنیات کر دی گئی جبکہ احتجاجی مظاہرین سے نمٹنے کے لیے پولیس تیار ہے۔پولیس حکام کے مطابق کراچی میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر سخت ایکشن لیا جائے گا، شہر میں اس وقت کسی بھی جگہ احتجاج نہیں ہو رہا لہٰذا شہری افواہوں پر کان نہ دھریں۔پولیس حکام نے بتایا کہ نیو کراچی سے مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اور ہنگامہ آرائی میں ملوث 10 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، مقدمہ درج کر رہے ہیں، اشتعال دلانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک