رہائی کے بعد بچوں کو زندہ دیکھ کر سکتے میں آگئے؛ شادی ابو سیدو کی درد بھری داستان
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
غزہ سے تعلق رکھنے والے فوٹو جرنلسٹ شادی ابو سیدو نے 20 ماہ طویل اسرائیلی قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد اپنے بچوں کو زندہ دیکھ کر سکتے میں آگئے۔
عرب خبر رساں ادارے کے مطابق شادی ابو سیدو کے سکتے میں آنے کی وجہ یہ تھی کہ انھیں اسرائیلی جیل میں انھیں ایک نہایت بری خبر سنائی گئی تھی۔
انھیں بتایا گیا تھا کہ آپ کے اہل خانہ بچوں سمیت اسرائیل کے حملے میں جاں بحق ہوچکے ہیں اور غزہ مکمل طور پر ختم ہوچکا ہے۔
یہ بات تواتر کے ساتھ انھیں اس انداز میں بتائی گئی کہ انھیں بھی سو فیصد یقین ہوگیا تھا کہ اہل خانہ اب جنت مکیں ہوچکے ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by The Headlines (@headlines.
تاہم غزہ امن منصوبے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے نتیجے میں شادی ابو سیدو کو رہائی ملی۔
جب وہ رہا ہونے کے بعد اپنے گھر پہنچے اور بچوں کو زندہ دیکھا تو ایک لمحے کے لیے گہری خاموشی میں ڈوب گئے۔
شادی ابو سیدو اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور بچوں سے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔
انھوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ میں دو سال بھوکا رہا۔ بھوک کی حالت میں ہی جیل گیا اور بھوکا ہی باہر آیا۔ وہ (اسرائیلی فوجی) کہتے تھے کہ ہم نے تمہارے بچے مار دیے، غزہ ختم ہو گیا۔
شادی ابو سیدو نے مزید کہا کہ جب میں رہائی کے بعد غزہ میں داخل ہوا تو لگا جیسے یہ قیامت کا منظر ہو۔ یہ وہ غزہ نہیں رہا جسے میں جانتا تھا، جسے میں چھوڑ کر جیل گیا تھا۔
شادی ابو سیدو نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اُن ہزاروں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے آواز اٹھائیں جو اب بھی زندہ قبروں میں سسک رہے ہیں۔
یاد رہے کہ شادی ابو سیدو کو مارچ 2024 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اسرائیلی افواج نے الشفا اسپتال پر حملہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہائی کے گیا تھا کے بعد
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔