غزہ: اسرائیلی جیل میں 20 ماہ قید کے بعد رہائی پانے والے غزہ کے فوٹو جرنلسٹ شادی ابو سیدو نے قید کے دوران ہونے والے سنگین مظالم اور ناقابلِ برداشت اذیتوں کی تفصیلات بیان کر دیں۔

بین الاقوامی میڈیا سے گفتگو میں شادی ابو سیدو کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کو انسانی وقار سے محروم کر کے بدترین تشدد، بھوک، پیاس اور نفسیاتی اذیتوں میں رکھا جاتا ہے، ہم روز ایک بار نہیں، ہزار بار مرتے تھے،  ہمیں نیند، بھوک، پیاس اور کھانے کا ذائقہ تک بھلا دیا گیا تھا،  رات کے وقت ہم پر پانی پھینکا جاتا، مارا پیٹا جاتا، اور ہر لمحہ خوف میں رکھا جاتا تھا۔

ابو سیدو نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے قید کے دوران انہیں یہ کہہ کر اذیت دی کہ ہم نے تمہارے بچوں کو مار دیا ہے، تمہارا غزہ ختم ہو گیا ہے، رہائی کے بعد جب وہ غزہ واپس پہنچے اور اپنے بچوں کو زندہ دیکھا تو وہ سکتہ میں آ گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں دو سال بھوکا رہا، بھوکا جیل گیا اور بھوکا ہی واپس آیا،  میرے جسم پر زخموں کے نشان ہیں مگر اصل زخم وہ ہیں جو روح پر لگائے گئے، اسرائیل ہمیں انسان نہیں جانور سمجھتے تھے۔

ابو سیدو نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافتی اداروں سے اپیل کی کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قید دیگر فلسطینی قیدیوں کی فوری رہائی کے لیے آواز بلند کریں، جو آج بھی بدترین مظالم کا شکار ہیں۔

خیال رہے کہ شادی ابو سیدو کو مارچ 2024 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اسرائیلی فوج نے غزہ شہر کے الشفا اسپتال پر حملہ کیا تھا، جہاں درجنوں مریض، طبی عملہ اور شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ رہائی کے بعد جب وہ غزہ واپس پہنچے تو شہر کی تباہی دیکھ کر وہ رنجیدہ ہو گئے،میں غزہ میں داخل ہوا تو لگا جیسے یہ قیامت کا منظر ہے، یہ وہ غزہ نہیں رہا جسے میں جانتا تھا۔

یاد رہےکہ حماس کی جانب سے تو جنگ بندی کی مکمل پاسداری کی جارہی ہے لیکن اسرائیل نے اپنی دوغلی پالیسی اپناتے ہوئے 22 سال سے قید فلسطین کے معروف سیاسی رہنما مروان البرغوثی کو رہا کرنے سے انکاری ظاہر کی ہے اور اسرائیل کے متعدد وزیر اپنی انتہا پسندانہ سوچ کے سبب صبح و شام فلسطینی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں۔

.

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

نور مقدم قتل معاشرے میں پھیلتی’برائی‘ کا نتیجہ ہے جسے ’لیو ان ریلیشن‘ کہا جاتا ہے، جسٹس باقر نجفی

نور مقدم قتل کے مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کیخلاف اپیل مسترد ہونے کے کیس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی نے 7 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ جاری کر دیا۔

اضافی نوٹ میں جسٹس علی باقر نجفی نے کہا اکثریتی فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں لیکن کچھ اضافی وجوہات تحریر کی ہیں، ظاہر جعفر کیخلاف تمام شواہد ریکارڈ کا حصہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’لیو ان ریلیشن‘ کا تصور معاشرے کیلئے انتہائی خطرناک ہے، لڑکے لڑکی کا لیونگ ریلیشن نہ صرف معاشرتی بگاڑ بلکہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے، آج کل کی نوجوان نسل کو اس واقعہ سے سبق سیکھنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: نور مقدم قتل کیس: مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کیخلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی تھی.عدالت نے ریپ کیس میں سزائے موت عمر قید میں تبدیل کردی تھی۔

اغوا کے مقدمے میں 10 سال قید کو کم کرکے ایک سال کر دیا گیا.عدالت نے نور مقدم کے اہلخانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا تھا۔

ظاہر جعفر کے مالی جان محمد اور چوکیدار افتخار کو رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا.ظاہر جعفر نے سپریم کورٹ فیصلے کیخلاف نظرثانی درخواست دائر کر رکھی ہے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس میں کہا  کہ نور مقدم کیس معاشرے میں پھیلنے والی اُس ’برائی‘ کا براہِ راست نتیجہ ہے جسے ’لیونگ ریلیشن شپ‘ کہا جاتا ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جسٹس نجفی کا اشارہ ’لِو اِن ریلیشن شپ‘ کی طرف تھا، یعنی ایسی صورتحال جہاں دو غیر شادی شدہ افراد رومانوی تعلق کے تحت ایک ساتھ رہائش اختیار کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس طرح کے تعلقات نہ صرف ملک بلکہ شریعت کے تحت پرسنل لا کے بھی خلاف ہیں"، جج نے ان تعلقات کو خدا کے خلاف "براہ راست بغاوت" قرار دیا۔

معزز جج نے اس طرح کے تعلقات کے "خوفناک نتائج" کے بارے میں نوجوان نسل کو خبردار کیا۔

27 سالہ نور مقدم جولائی 2021 میں ظاہر ذاکر جعفر کے اسلام آباد میں واقع گھر سے مردہ حالت میں ملی تھیں، رواں سال مئی میں جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس اسحٰق ابراہیم اور جسٹس باقر علی نجفی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے ظاہر جعفر کو 2022 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے سنائی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا۔

متعلقہ مضامین