آلات موسیقی (دوسرا اور آخری حصہ)
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
شہنائی
یہ الغورہ کی طرح موسیقی کا اہم ساز ہے اس کے بجانے کے اصول وہی ہیں جو بانسری کے ہیں لیکن اس میں سینے میں طاقت زیادہ درکار ہوتی ہے اسے ترقی دے کر بین باجا بنایا گیا ہے عام طور پر شہنائی کا استعمال شادی وغیرہ میں زیادہ کیا جاتا ہے۔
دف
موسیقی کا یہ آلہ ایک دائرے کی شکل کا ہوتا ہے جو عام طور پر جانوروں کی کھال سے ایک گول فریم کی صورت میں بنایا جاتا ہے، دائیں ہاتھ سے پکڑ کر بائیں ہاتھ سے بجایا جاتا ہے ۔
ڈفلی
دف اور ڈفلی دونوں موسیقی کے آلات ہیں لیکن دونوں میں فرق ہے۔ دف عام طور پر ایک بڑا آلہ موسیقی ہے جو انگلیوں سے بجایا جاتا ہے جب کہ ڈفلی ایک چھوٹا اور ہلکا آلہ ہے اسے ہاتھ کی ہتھیلیوں سے مار کر بجایا جاتا ہے۔
رباب
تار کے سازوں میں ایک اہم ساز ہے یہ صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بے حق مقبول ہے۔ رباب کی ترقی یافتہ شکل سرود ہے ستار کی طرح یہ ساز گیتوں کے بجانے کے لیے موزوں ہے۔
چکارا
یہ آلہ موسیقی سارنگی کی غیر ترقی یافتہ شکل ہے اسے ’’سُر ساگر‘‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے یہ ساز اپنی فنی دشواریوں کی وجہ سے عام نہ ہو سکا۔
دلربا
ستار اور سارنگی کے فنی اصولوں کو یکجا کرکے یہ ساز بنایا گیا ہے یہ بھی ایک مقبول ساز ہے۔
بین
یہ پھونک یعنی ہوا کا آلہ موسیقی ہے یہ لکڑی کی لمبی بانسری ہے جو روایتی طور پر کھوکھلی ہوئی لوکی سے بنائی جاتی ہے جوگویوں میں اس کا استعمال عام ہے۔
گٹار
یہ تار کا ساز ہے جو مغرب میں بہت مقبول ہے یہ ستار سے ملتا جلتا ہے پوپ موسیقی اور لائٹ موسیقی میں اس کا استعمال عام ہے۔
پیانو
یہ مغرب کا پرانا اور نہایت مقبول ساز ہے یہ Keyboard کے سازوں میں شمار ہوتا ہے ہمارے یہاں نغمہ نگار اسے دھن بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
وائلن
یہ بھی مغربی ساز ہے اسے موسیقی کے تمام سازوں کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے اس کی آواز میں ایک ٹھہراؤ اور سکون کا احساس ہے۔
بینڈ
یہ مغربی ساز ہے جو عسکری موسیقی کا حصہ ہے۔ ہمارے یہاں شادی بیاہ اور جلسے جلوسوں میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔
سازینہ
بہت سے سازوں کی ہم آہنگی اور امتزاج سے بجانے والے سازوں کی جماعت کو اردو میں سازینہ اور انگریزی میں ’’آرکسٹرا‘‘ کہتے ہیں عموماً اسٹیج پروگراموں میں اس کا استعمال عام ہے۔
ان آلات موسیقی کے علاوہ چمٹا اور گھڑا (مٹکا) جو ہمارے عام استعمال کی اشیا ہیں ان کو بھی بطور آلہ موسیقی استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ گھنگھرو اور تالی کو بھی بطور آلہ موسیقی استعمال کیا جاتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں اس کا استعمال آلہ موسیقی جاتا ہے ساز ہے ہے اسے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔