خود کو مرتے دیکھ رہا تھا، سنجے دت کا نشے کی لت سے متعلق بیان وائرل
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
بالی ووڈ کے دبنگ اداکار سنجے دت کا نشے کی لت سے چھٹکارا پانے سے متعلق پرانا بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 1994 میں فلم آتش کے سیٹ سے لی گئی ایک ویڈیو میں سنجے دت نے اپنی زندگی کے مشکل ترین دور اور اس دوران اپنے گھر والوں کی سپورٹ کے بارے میں بتایا کہ کس طرح گھر والوں نے ان کی مدد کی۔
رپورٹس کے مطابق سنجے دت سن 1980 سے 1981 کے دوران نشے کی لت میں مبتلا ہوئے، جب ان کی والدہ اور معروف اداکارہ نرگس شدید بیماری کے باعث نیویارک میں زیرِ علاج تھیں۔
سنجے کی خواہش تھی کہ ان کی والدہ ان کی پہلی فلم راکی دیکھیں، مگر نرگس فلم کی ریلیز سے صرف تین دن قبل انتقال کر گئیں والدہ کی وفات نے سنجے کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا، جس کے بعد ان کی نشے کی عادت مزید بڑھ گئی۔
وائرل بیان میں سنجے دت نے کہا کہ ’میں خود کو مرتا ہوا دیکھ رہا تھا، میں لوگوں سے چھپنے سے تنگ آ گیا تھا، اسی لیے میں نے اپنے گھر والوں سے مدد لینے کا فیصلہ کیا۔‘ اداکار نے ورزش کو بہترین چیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ نشے کی عادت سے نجات میں ورزش نے اہم کردار ادا کیا۔
فلم آتش میں سنجے کے ساتھ کام کرنے والے اداکار تنوجا نے انکشاف کیا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران سنجے کی کمزوری کے باعث انہیں سنجے کو چھونے سے بھی منع کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ انہوں نے اگر سنجے پر ہاتھ اُٹھایا تو وہ گِر جائیں گے۔ دوسری جانب سنجے کی بہن پریا دت کے مطابق بھائی کو مکمل صحت یاب ہونے میں تقریباً ساڑھے تین سال لگے اور امریکا میں طویل ری ہیب کے بعد انہوں نے زندگی کا آغاز کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نشے کی
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔