پی ٹی آئی رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پشاور(آئی این پی )تحریک انصاف کی خاتون رہنما صنم جاوید کے مبینہ اغوا کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مقدمہ صنم جاوید کی دوست خاتون وکیل کی مدعیت میں تھانہ شرقی پشاورمیں درج کیاگیا ہے۔مقدمے کے متن کے مطابق صنم جاوید کو پشاور کی مصروف شاہراہ پر روکا گیا اور 5 افراد انہیں زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔متن میں کہا گیا ہے کہ اس سنگین واقعہ سے قانون کی عملداری پر سوالیہ نشان ہے لہذا واقعے کی فوری تحقیقات کی جائیں اور ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے۔ترجمان وزیراعلی خیبرپی کے نے بتایا کہ مقدمہ ایڈووکیٹ حرا بابر کی مدعیت میں تھانہ شرقی میں درج کیا گیا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔وزیراعلی نے ہدایت کی ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو قانون کے مطابق فوری طور پر گرفتار کیا جائے اور حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: صنم جاوید
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔