نیتن یاہو کو دوست کہنے پر پرکاش راج نے مودی کلاس لےلی
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
بالی ووڈ کے معروف اداکار پرکاش راج نے نیتن یاہو کو دوست کہنے پر وزیراعظم نریندر مودی کو کھری کھری سنادیں۔
اداکار پرکاش راج نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اس ٹوئٹ پر شدید ردعمل دیا جس میں انہوں نے اسرائیلی ہم منصب نیتن یاہو کو دوست قرار دیا تھا۔
نریندر مودی نے ایکس پر لکھا کہ ’’میرے دوست، وزیراعظم نیتن یاہو کو صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے تحت ہونے والی پیش رفت پر مبارکباد دینے کے لیے فون کیا اور کہا کہ ہم یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ کے لوگوں کے لیے انسانی امداد میں اضافے کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘‘
مودی نے مزید لکھا کہ ’’دہشت گردی کسی بھی شکل یا ظاہری شکل میں دنیا میں کہیں بھی ناقابل قبول ہے۔‘‘
اداکار پرکاش راج نے انہیں کرارا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’’مجھے بتائیں آپ کا دوست کون ہے پھر میں آپ کو بتاؤں گا کہ آپ کون ہیں‘‘۔ انہوں نے ہیش ٹیگ ’’جسٹ آسکنگ‘‘ بھی بنایا۔
پرکاش راج کی پوسٹ کے فوری بعد شائقین کی جانب سے ان کے پیغام کو سراہا اور غزہ میں جاری مظالم پر بھی بات کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پرکاش راج نے نیتن یاہو کو
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔