عسکری سفارتکاری ‘ دوست ممالک سے دفاعی روابطہ فیلڈ مارشل نے جزل ساحر شمشاد کے کردار کوسراہا
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
راولپنڈی+اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ خبرنگار خصوصی) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا نے گزشتہ روز جنرل ہیڈ کوارٹر میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے الوداعی ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران چیف آف آرمی سٹاف نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کی شاندار قیادت، مثالی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، سٹریٹجک بصیرت اور پاک افواج کیلئے ان کی طویل خدمات کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ جنرل ساحر کی قیادت میں تینوں مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی مضبوط ہوئی، مشترکہ آپریشنل تیاریوں میں اضافہ ہوا اور قومی سلامتی کے سٹریٹجک اہداف کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا گیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں استحکام، عسکری سفارت کاری اور دوست ممالک کے ساتھ دفاعی روابط کو مضبوط بنانے میں جنرل ساحر شمشاد مرزا کے کلیدی کردار کو بھی سراہا۔ بیان میں کہا گیا کہ ’جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنے کیریئر کے دوران ملنے والے تعاون پر آرمی چیف اور پاک افواج کا شکریہ ادا کیا۔ جی ایچ کیو آمد پر جنرل ساحر شمشاد نے یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ساحر شمشاد مرزا کی وزارت خارجہ آمد پر خیر مقدم کیا اور پاکستان کے دفاع و سلامتی کے لیے ان کی پیشہ ورانہ قیادت اور بے لوث خدمات کو سراہا۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم نے ان کے اعزاز میں ایک ظہرانے کا بھی اہتمام کیا۔ جنرل ساحر شمشاد مرزا نے ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا۔ سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کا استقبال کیا۔ پاک فضائیہ کے چاک و چوبند دستے نے جنرل ساحر شمشاد مرزا کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ ائیر چیف نے ان کی شاندار خدمات کو سراہا۔ پاک فضائیہ افواج کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھتے ہوئے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کام کر رہی ہے۔ جنرل ساحر شمشاد نے پاک فضائیہ کی جنگی تیاری پر اطمینان کا اظہار کیا۔ جنرل ساحر شمشاد نے فضائی سرحدوں کے تحفظ میں پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔ انہوں نے دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں پاک فضائیہ کے اہم کردار اور تینوں مسلح افواج کے درمیان موجود ہم آہنگی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون آنے والے برسوں میں مزید فروغ پاتا رہے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاک فضائیہ کو سراہا اور پاک
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین