ریاض میں انٹرپول کی دوسری ’فیوچر آف پولیسنگ کانگریس‘ میں 40 ممالک کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں انٹرپول کے زیر اہتمام دوسری ’فیوچر آف پولیسنگ کانگریس 2025‘ منعقد ہوئی، جس میں 40 ممالک اور متعدد علاقائی و بین الاقوامی سیکیورٹی تنظیموں کے وفود نے شرکت کی۔
یہ 2 روزہ کانفرنس نائف عرب یونیورسٹی برائے سیکیورٹی سائنسز میں انٹرنیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن (INTERPOL) کے اشتراک سے منعقد کی گئی، جس کا محور سیکیورٹی چیلنجز، پولیسنگ کا مستقبل، اور ٹیکنالوجی کی تیزی سے بدلتی دنیا میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار رہا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کی قیادت میں خطہ امن کی نئی سمت کی جانب گامزن
تقریب میں سعودی عرب کے قائم مقام نائب وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن محمد بن ایاف سمیت سینئر حکام نے شرکت کی۔
نائف یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمجید البنیان نے اپنے خطاب میں کہا کہ یونیورسٹی سیکیورٹی تحقیق، صلاحیتوں میں سرمایہ کاری، اور مؤثر فیصلہ سازی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف کے تعاون اور انٹرپول کے اشتراک پر شکریہ ادا کیا۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب کے 6 علاقوں میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کا الرٹ
انٹرپول کے صدر میجر جنرل احمد النعیمی الریسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں جاری سیکیورٹی تبدیلیوں کے پیش نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تکنیکی طور پر تیار اور اسٹریٹجک بصیرت سے لیس ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجیز نے جرائم کی نوعیت بدل دی ہے، اور اب مجرم مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل نظاموں کا استعمال کرتے ہوئے روایتی قانون نافذ کرنے کے طریقوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
’فیوچر آف پولیسنگ کانگریس 2025‘ انٹرپول ریاض سعودی عرب نائف یونیورسٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انٹرپول ریاض نائف یونیورسٹی پولیسنگ کا
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ