سیکیورٹی فورسز کی ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کے خلاف کارروائی، 22 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
سیکیورٹی فورسز نے خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 22 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کےمطابق سیکیورٹی فورسز نے بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی جہاں 22 خوارج مارے گئے۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 22 خوارج مارے گئے ہیں، علاقے میں پائے جانے والے کسی بھی ممکنہ بھارتی اسپانسرڈ خوارج کو ختم کرنے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشن کیا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے وژن "عزم استحکام" کے تحت انسداد دہشت گردی کی مہم پوری رفتار سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈیرہ اسماعیل خان سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔