سعد رضوی کے گھر سے مبینہ طور پر کروڑوں روپے اور سونا برآمد، متعدد سوالات نے جنم لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
پولیس ذرائع کے مطابق تحریک لبیک پاکستان (TLP) کے سربراہ سعد حسین رضوی کے گھر سے ایک کارروائی کے دوران مبینہ طور پر کروڑوں روپے نقد، سونے کی اینٹیں، قیمتی گھڑیاں اور زیورات برآمد کیے گئے ہیں۔
یہ اطلاع سامنے آتے ہی ملک بھر میں بحث چھڑ گئی ہے کہ ایک مذہبی رہنما کے پاس اتنی بڑی دولت کیسے جمع ہوئی اور اس کا ماخذ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق کارروائی تفتیشی معلومات کی بنیاد پر کی گئی، تاہم ابھی تک کسی سرکاری پریس ریلیز یا عدالتی حکم نامے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ رقم اور زیورات کی مالیت کا تخمینہ ابتدائی طور پر کروڑوں روپے لگایا گیا ہے، مگر اس کی درست تصدیق کے لیے انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی جا رہی ہے۔
سعد حسین رضوی، مرحوم خادم حسین رضوی کے صاحبزادے، تحریک لبیک پاکستان کے موجودہ امیر ہیں۔
ٹی ایل پی ایک مذہبی و سیاسی جماعت ہے جو حالیہ برسوں میں متعدد احتجاجی تحریکوں، ریلیوں اور دھرنوں کے باعث خبروں میں رہی ہے۔
جماعت کے چندہ جمع کرنے کے نظام اور مالی شفافیت کے حوالے سے پہلے بھی سوالات اٹھتے رہے ہیں، مگر کسی باضابطہ تفتیش کی تفصیلات منظرِ عام پر نہیں آئیں۔
یہ انکشاف سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر کئی اہم سوالات گردش کرنے لگے ہیں۔
ایک مذہبی رہنما کے گھر اتنی بڑی رقم اور سونا کہاں سے آیا؟ کیا یہ دولت چندوں، خیرات یا صدقات کی شکل میں جمع کی گئی تھی؟ کیا یہ دولت بیرونِ ملک ذرائع یا کسی خفیہ فنڈنگ سے منسلک ہے؟ کیا اس رقم کا تعلق کسی غیر قانونی سرگرمی، یا اسلحہ خریداری سے ہے؟ اگر نہیں، تو سعد رضوی یا ان کے ادارے کی قانونی آمدن کے ذرائع کیا ہیں؟
ابھی یہ واضح نہیں کہ پولیس نے جو اثاثے برآمد کیے ہیں، وہ کس کے نام پر ہیں اور ان کا ماخذ کیا ہے۔ اگر تفتیش میں ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ اثاثے ناجائز ذرائع سے حاصل کیے گئے، تو یہ ایک بڑا قانونی اور سیاسی مقدمہ بن سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
کراچی:شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ مقابلوں کے دوران چار ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا جبکہ ایک فرار ہونے والے مبینہ ڈاکو کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔
پولیس اور چھیپا حکام کے مطابق اورنگی ٹاؤن تھانے کی حدود میں سیکٹر 8، اللہ والا کالج کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
زخمی ملزم کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت سبیل کے نام سے ہوئی۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا۔
ادھر بوٹ بیسن تھانے کی حدود میں کلفٹن، عبداللہ شاہ غازی مزار پل کے قریب مبینہ مقابلے کے دوران ایک مبینہ ڈاکو پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہو گیا، جس کی شناخت مانی کے نام سے ہوئی۔
اسے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس دوران فرار ہونے کی کوشش کرنے والے دوسرے مبینہ ملزم کو شہریوں نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا بعد ازاں اسے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ زخمی ملزم کی شناخت سکندر کے نام سے کی گئی۔
دوسری جانب شرافی گوٹھ پولیس نے کورنگی سنگر چورنگی کے قریب راڈو بیکری کے علاقے میں مبینہ مقابلے کے بعد ایک مبینہ ڈاکو اویس کو زخمی حالت میں گرفتار کیا۔ ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر سامان بھی برآمد ہوا۔
اسی طرح قائدآباد تھانے کی حدود میں لانڈھی شیر پاؤ کالونی، مولیٰ مدد قبرستان کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک اور مبینہ ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت وارث خان کے نام سے ہوئی۔