خدمت خلق کے اکاؤنٹ سے کروڑوں کی منی لانڈرنگ؛ ایم کیو ایم رہنما کی بریت کی درخواست پر نوٹسز جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
کراچی:
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ اور غیر قانونی ٹرانزیکشن کے مقدمے میں ایم کیو ایم رہنما احمد علی کی بریت کی درخواست پر پراسیکیوٹر کو نوٹس جاری کردیے۔
کراچی میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کے روبرو کروڑوں روپے کی منی لانڈرنگ اور غیر قانونی ٹرانزکشن کے مقدمے کی سماعت ہوئی جس میں ایم کیو ایم کے رہنما احمد علی نے بریت کی درخواست دائر کردی، تفتیشی افسر اور پراسیکیوٹر عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے درخواست پر نوٹس جاری کردیے۔ استغاثہ کے مطابق مقدمے میں بانی ایم کیو ایم، بابر غوری اور دیگر اشتہاری ہیں۔ ملزمان کیخلاف سرفراز مرچنٹ نے مقدمہ درج کرایا تھا۔ ملزمان پر سماجی تنظیم خدمت خلق کے اکاؤنٹ کے کروڑوں روپے لندن بھیجنے کا الزام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم ایم کی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔