فنانشل اکیڈمی فورم 2025 کا چوتھا ایڈیشن کل (بدھ) سے کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ (KAFD) کے کانفرنس سینٹر میں شروع ہوگا۔

یہ ایونٹ کپیٹل مارکیٹ اتھارٹی کے چیئرمین اور فنانشل اکیڈمی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے سربراہ محمد بن عبداللہ الکویز کی سرپرستی میں منعقد ہو رہا ہے۔

#Saudi_Tadawul_Group is participating in the #Financial_Academy_Forum 2025 as a Gold Sponsor, reinforcing our commitment to a platform that convenes experts and leaders to advance the Kingdom’s financial sector.

pic.twitter.com/24eANPTbqn

— Saudi Tadawul Group | مجموعة تداول السعودية (@tadawul_group) October 7, 2025

فورم میں مالیاتی اور کاروباری شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز مقامی و بین الاقوامی ماہرین، فیصلہ ساز اور ایگزیکٹو رہنما شریک ہوں گے۔

’ہم جدت لاتے ہیں تاکہ بااختیار بنائیں‘، فورم کا مرکزی موضوع

اس سال فورم کا عنوان We Innovate to Empower ہے، جو فنانشل اکیڈمی کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ جدت کو انسانی وسائل کی ترقی اور مالیاتی شعبے کی پیشرفت کا بنیادی ستون بنایا جائے۔

مقصد ایک ایسا مالیاتی ماحول تشکیل دینا ہے جو پائیداری اور ڈیجیٹل تبدیلی کی تیز رفتار دنیا کے مطابق ڈھل سکے۔

قومی ٹیلنٹ اور نئی شراکت داریوں پر فوکس

فنانشل اکیڈمی کے سی ای او منع بن محمد الخمصان نے بتایا کہ اس سال کا فورم قومی ٹیلنٹ کے مستقبل پر گفتگو کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس موقع پر بینکاری، سرمایہ کاری اور میڈیا جیسے کلیدی شعبوں میں نئی ٹارگٹڈ پہل کاریوں کا آغاز بھی کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے پاکستان اور سعودی عرب کو ایئر ٹو ایئر میزائل پروگرام میں شامل کرلیا

انہوں نے کہا کہ فورم کے دوران متعدد مالیاتی اداروں کے ساتھ تربیت و ترقی کے معاہدے بھی دستخط کیے جائیں گے، جو فنانشل اکیڈمی کے اس کردار کو مزید مضبوط بنائیں گے کہ وہ سعودی مالیاتی صنعت کے پائیدار مستقبل کے لیے بنیادی سہولت کار بنے۔

اہم سیشنز اور بین الاقوامی مقررین

فورم میں 3 بڑے پینل ڈسکشنز شامل ہیں:

بدلتے ماحول میں ادارہ جاتی قیادت کے کردار پر گفتگو قیادت کے فروغ کے لیے پائیدار حکمتِ عملیوں پر بات مصنوعی ذہانت کے دور میں انسانی وسائل کا مستقبل

ان سیشنز میں سعودی سینٹرل بینک، تاوونیا، الانما بینک، اور بین الاقوامی اداروں کے اعلیٰ عہدیدار شامل ہوں گے۔

’الانماء اسٹیج‘

اس سال فورم میں ایک نیا آغاز ’الانماء اسٹیج‘ کے عنوان سے متعارف کرائی جا رہی ہے، جو یونیورسٹی طلبہ، نوجوانوں اور مالیاتی شعبے کے پیشہ ور افراد کے لیے ایک تجرباتی تربیتی پلیٹ فارم ہوگا۔

یہ اسٹیج شعوری مالی سوچ، مالی فراڈ سے بچاؤ، ڈیجیٹل جدت اور کیریئر کی تیاری جیسے موضوعات پر انٹرایکٹو سیشنز پیش کرے گا۔

سعودی وژن 2030 سے ہم آہنگ پروگرام

فنانشل اکیڈمی فورم سعودی عرب کے مالیاتی شعبے میں بین الاقوامی بہترین عملی نمونوں پر تبادلہ خیال کا قومی پلیٹ فارم ہے۔

یہ فورم کپیٹل مارکیٹ اتھارٹی، سعودی سینٹرل بینک، انشورنس اتھارٹی اور فنانشل سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے اشتراک سے منعقد ہو رہا ہے، جو وژن 2030 کے اہداف کے مطابق مالیاتی شعبے کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

مزید معلومات اور رجسٹریشن کے لیے درج ذیل ویب سائٹ ملاحظہ کی جاسکتی ہے: forum.fa.gov.sa/home

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الانماء اسٹیج ریاض سعودی عرب فنانشل اکیڈمی فورم منع بن محمد الخمصان

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الانماء اسٹیج ریاض فنانشل اکیڈمی فورم منع بن محمد الخمصان فنانشل اکیڈمی کے بین الاقوامی مالیاتی شعبے کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم