امریکا میں گلہری نے پانی پر اسکیٹنگ کر کے سب کو حیران کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی ریاست شمالی کیرولائنا کے شہر ونسٹن،سیلم میں منعقد ہونے والے “کیرولائنا کلاسک فیئر” میں ایک چھوٹی مگر غیر معمولی گلہری نے اپنی شاندار کارکردگی سے سب کو حیران کر دیا۔
ٹوئگی نامی اس گلہری نے پانی پر اسکیئنگ کر کے دیکھنے والوں کو دنگ کر دیا اور یہ منظر حاضرین کے لیے کسی جادوئی لمحے سے کم نہ تھا۔
یہ دلچسپ فیئر 3 روز تک جاری رہا اور اس دوران ٹوئگی نے کئی مرتبہ پانی پر اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا۔ ہر پرفارمنس پر حاضرین نے بھرپور داد دی اور بچوں سے لے کر بڑوں تک سبھی حیرت سے اس منظر کو دیکھتے رہ گئے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ منفرد کرتب دکھانے والی ٹوئگی پہلی گلہری نہیں ہے۔ سب سے پہلی ٹوئگی کو 1979 میں ایک امریکی جوڑے، لو این بیسٹ اور ان کے شوہر نے ایک طوفان سے بچایا تھا۔ بعد ازاں لو این بیسٹ نے اسے پانی پر اسکیئنگ سکھائی، جس کے بعد یہ ایک منفرد تفریحی مظاہرہ بن گیا۔
لو این بیسٹ، جو اب ریٹائر ہو چکی ہیں، اپنے طویل کیریئر میں مجموعی طور پر آٹھ گلہریوں کو واٹر اسکیئنگ کی تربیت دے چکی ہیں۔ ان کے مطابق ہر گلہری کو تربیت دینے میں صبر، پیار اور اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف ایک کھیل ہے بلکہ جانور اور انسان کے درمیان ایک خاص تعلق کا اظہار بھی ہے۔
ٹوئگی کی موجودہ پرفارمنس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ قدرتی ذہانت اور تربیت مل کر حیرت انگیز نتائج پیدا کر سکتی ہیں۔ ونسٹن،سیلم کے رہائشیوں کے لیے یہ شو فیئر کی سب سے یادگار جھلک بن گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔