سوئی ناردرن نے گھریلو گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کر دی، پہلی ترجیح کون سے صارفین ہوں گے؟ WhatsAppFacebookTwitter 0 8 October, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے ملک بھر میں گھریلو گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔ مینیجنگ ڈائریکٹ ایس این جی پی ایل عامر طفیل نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ ایل این جی کنکشنز کی منظوری بھی دے دی گئی ہے، اور اب صارفین کو گھروں میں گیس کی فراہمی دوبارہ ممکن ہو گئی ہے۔

عامر طفیل نے بتایا کہ ایس این جی پی ایل کے ہیڈ آفس میں ایک خصوصی مانیٹرنگ یونٹ قائم کیا گیا ہے جبکہ ریجنل سطح پر بھی مانیٹرنگ یونٹس تشکیل دے دیے گئے ہیں تاکہ صارفین کی درخواستوں پر فوری کارروائی کی جا سکے۔ اس مقصد کے لیے کمپنی نے ایک ہیلپ لائن نمبر 0800 بھی مختص کر دیا ہے۔

ایم ڈی عامر طفیل کے مطابق دو لاکھ 45 ہزار صارفین کے ڈیمانڈ نوٹس پہلے ہی جمع تھے، ان تمام افراد کو خطوط جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے کنکشنز کی تنصیب مکمل کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ’پہلی ترجیح انہی صارفین کو دی جائے گی جنہوں نے پہلے سے رقم جمع کرائی تھی، تاہم خواہش مند صارفین ارجنٹ فیس جمع کرا کر جلدی کنکشن بھی حاصل کر سکتے ہیں۔‘

عامر طفیل نے بتایا کہ اس سال تین لاکھ نئے کنکشنز دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ اگلے سال سے ہر سال چھ لاکھ نئے کنکشنز فراہم کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق ایل پی جی سلنڈر ہماری ایل این جی سے تقریباً 30 فیصد مہنگا ہے، اس لیے اب صارفین کو مہنگے سلنڈر خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ گیس براہِ راست گھروں تک پہنچے گی۔

ایم ڈی ایس این جی پی ایل نے مزید کہا کہ ’ایل این جی مہنگی ضرور ہے، لیکن اگر سوچ سمجھ کر استعمال کی جائے تو یہ صارفین کے لیے معاشی بوجھ نہیں بنتی۔‘ ان کے مطابق ایم ایم بی ٹی یو ایل این جی کی قیمت 3200 روپے مقرر کی گئی ہے۔

عامر طفیل نے بتایا کہ ایس این جی پی ایل نے اپنے یو ایف جی (گیس کے ضیاع) کے نقصانات کو کم کرتے ہوئے صرف 5 فیصد تک محدود کر دیا ہے، جو کہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک بڑی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی کا مقصد صارفین کو سہولت دینا، شفافیت بڑھانا اور گیس کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانا ہے تاکہ توانائی کے وسائل مؤثر انداز میں عوام تک پہنچ سکیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجعفر ایکسپریس حادثہ پر بھارت کا گھناؤنا پروپیگنڈا بے نقاب جعفر ایکسپریس حادثہ پر بھارت کا گھناؤنا پروپیگنڈا بے نقاب اسرائیل کا فریڈم فلوٹیلا پر حملہ، 3 امدادی جہازوں پر قبضہ، لائیو نشریات منقطع کردیں پنجاب میں گندم خریداری کیلئے قیمت 3 ہزار 500 روپے فی من مقرر ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کی تاریخ میں توسیع کی جائے: اجمل بلوچ امریکی کمپنی کا پاکستان کو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل فروخت کرنے کا فیصلہ صنم جاویدکی گرفتاری پرکے پی حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے، صوبائی صدر پی ٹی آئی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

یہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔

نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثر

یہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔

دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔

نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعمل

امریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔

برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔

آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔

جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔

دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی

دریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔

امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ