جعفر ایکسپریس پر بار بار ہونے والے حملوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، وزیر ریلوے
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
جعفر ایکسپریس کی 4 بوگیاں منگل کی صبح شکارپور ضلع کے شہر ہمایوں کے قریب پٹڑی پر ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں پٹڑی سے اتر گئیں، جس کے باعث 7 مسافر زخمی ہوئے۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر برائے ریلوے حنیف عباسی نے واقعے میں غیر ملکی مداخلت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جعفر ایکسپریس پر بار بار ہونے والے حملوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دھماکے کے باوجود ریلوے کی خدمات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔
شکارپور کے ڈپٹی کمشنر شکیل احمد ابڑو نے جائے وقوع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکا صبح تقریباً 8 بج کر 15 منٹ پر اس وقت ہوا جب ٹرین پشاور سے کوئٹہ جارہی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر شکارپور سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
زخمیوں میں محمد شفیق ولد عبدالعزیز (ریلوے اہلکار)، محمد یونس، حوالدار جاوید، کانسٹیبل عبدالرحمٰن، کانسٹیبل اظہر جمیل اور 2 نامعلوم مسافر شامل ہیں۔
بعد ازاں، 4 زیادہ زخمی افراد کو مزید علاج کے لیے فوجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر نے بعد میں واضح کیا کہ تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے اور باقی مسافروں کو محفوظ طریقے سے ان کی منزلوں تک پہنچانے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پٹڑی کی مرمت کا کام جاری ہے۔
منگل کا دھماکا رواں سال جعفر ایکسپریس پر ہونے والا ساتواں حملہ بتایا جا رہا ہے، مارچ میں ہونے والے سب سے خونریز واقعے میں دہشت گردوں نے ٹرین ہائی جیک کر کے 21 مسافروں کو قتل کر دیا تھا، اس کے بعد سے ٹرین پر کم از کم 6 مرتبہ حملے ہو چکے ہیں۔
’ڈان‘ سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی نے ان حملوں کا الزام بھارت پر عائد کیا، تاہم انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے آنے جانے والی ٹرین کی سروس معمول کے مطابق جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس کو بار بار نشانہ بنانے والے دہشت گرد دراصل بھارت کے ایجنٹ ہیں، جو آپریشن ’بنیان مرصوص‘ کے دوران اپنی شکست برداشت نہیں کر سکا، یہ بھارت کے بزدلانہ اقدامات ہیں جو اب بھی مئی کی جنگ میں لگنے والے زخموں کے درد میں مبتلا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس بار دہشت گردوں نے شکارپور (سندھ) کے قریب ریلوے ٹریک کو نشانہ بنایا، ایسے بزدلانہ حملے پاکستان ریلوے کو جعفر ایکسپریس کی سروس روکنے پر مجبور نہیں کر سکتے، ٹرین معمول کے مطابق چلتی رہے گی، ہم ایسے حملوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے، پٹڑی اور ٹرین کی سیکیورٹی مزید سخت کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ میں ان بہادر ڈرائیورز، گارڈز اور عملے کے ارکان کو سلام پیش کرتا ہوں جو ایسے خطرناک واقعات کے باوجود اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، اسی طرح میں ان بہادر مسافروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جو اس ٹرین میں سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ یہ دہشت گردوں کے لیے پیغام ہے کہ پاکستانی قوم ایک بہادر اور عظیم قوم ہے جو کبھی ہار نہیں مانے گی، میں اپنی مسلح افواج کو بھی سلام پیش کرتا ہوں جو شہریوں کے تحفظ کے لیے دہشت گردوں کے خاتمے کی جدوجہد کر رہی ہیں۔
دوسری جانب، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے پر اظہار مذمت کرتے ہوئے پولیس چیف سے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی، انہوں نے کمشنر لاڑکانہ کو ہدایت دی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
بعد ازاں، صوبائی قانون ساز امتیاز شیخ، ڈپٹی کمشنر شکیل ابڑو کے ہمراہ سول ہسپتال پہنچے اور زخمیوں محمد یونس اور محمد شفیق کی عیادت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جعفر ایکسپریس کرتے ہوئے ہونے والے کے مطابق انہوں نے بتایا کہ کہا کہ
پڑھیں:
اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔
جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔
انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔
یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔