جعفر ایکسپریس پھر بھارتی پراکسی کا نشانہ‘ دھماکے سے 4 بوگیاں ڈی ریل‘ 6 مسافر زخمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251008-08-28
شکارپور (مانیٹرنگ ڈیسک) چاروں صوبوں کو ملانے والی جعفر ایکسپریس ایک بار پھر بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کی دہشت گردی کا نشانہ بن گئی جس سے 6 مسافر زخمی ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق شکار پور کے گاؤں سلطان کوٹ کے قریب ریلوے ٹریک پر زور دار دھماکا ہوا ہے، جس سے راولپنڈی سے کوئٹہ جانے والی جعفر ایکسپریس کی 4 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں، دھماکے میں بچی سمیت 6 مسافر معمولی زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد رینجرز اور پولیس کی نفری موقع پر پہنچ گئی، دھماکے کی نوعیت جاننے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈ کو طلب کر لیا گیا جس نے جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔ ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ریلوے کے مطابق متاثرہ ٹریک کی مرمت کام شروع کردیا گیا ۔دوسری جانب وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے ایس ایس پی شکارپور سے تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ فی الفور واقعے کی تفتیش کا آغاز کریں، ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچانے والے دہشت گردوں کو جلد گرفتارکیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی
روس(نیوز ڈیسک)روس نے منگل کی صبح یوکرین پر سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائلوں سے شدید حملے کیے جن کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق حملے کیف اور ڈنیپرو سمیت مختلف شہروں پر کیے گئے۔ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں کیف پر یہ تیسرا بڑا حملہ تھا۔
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا کہ رات بھر ہونے والے حملوں میں روس نے 73 میزائل اور 600 سے زائد ڈرونز داغے۔ انہوں نے ایک بار پھر امریکا سے مطالبہ کیا کہ یوکرین کے کم ہوتے ذخائر کو پورا کرنے کے لیے مزید پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام فراہم کیے جائیں۔
حکام کے مطابق کیف ان حملوں کا مرکزی ہدف تھا، جہاں کم از کم 9 بلند و بالا عمارتوں، ایک اسکول، ایک کلینک، دفاتر اور انتظامی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔
بجلی فراہم کرنے والی یوکرینی کمپنی کے مطابق حملے کے باعث عارضی طور پر ایک لاکھ 40 ہزار افراد بھی بجلی سے محروم ہوگئے۔
یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے مجموعی طور پر 656 ڈرونز اور 73 میزائل فائر کیے جن میں 33 بیلسٹک میزائل اور 8 زرکون ہائپرسونک میزائل شامل تھے، جو اس جنگ کے دوران اس نوعیت کے میزائلوں کا ممکنہ طور پر سب سے بڑا استعمال ہے۔
روس کے مطابق زرکون میزائل کی رینج 1000 کلومیٹر ہے اور یہ آواز کی رفتار سے 9 گنا زیادہ تیزی سے سفر کرتا ہے۔
یوکرینی فضائیہ کے مطابق 40 میزائلوں اور 602 ڈرونز کو مار گرایا یا ناکارہ بنا دیا گیا تاہم گرائے گئے میزائلوں میں زرکون میزائلوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں۔رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا