لوگ نیشنل ایکشن پلان پڑھے بغیر کنفیوژن پیدا کررہے ہیں، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ لوگ نیشنل ایکشن پلان پڑھے بغیر کنفیوژن پیدا کر رہے ہیں۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اڈیالہ جیل میں توشہ خانہ 2 کیس میں سماعت کے دوران بانی چیئرمین سے ملاقات ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کے بعد یہ پہلی ملاقات تھی، بانی نے تمام ایم پی ایز کا شکریہ ادا کیا اور خوشی کا اظہار کیا، ساتھ ہی تمام عہدیداروں کو مبارکباد بھی دی۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ جنوری میں آل پارٹیز کانفرنس کی، اس کی پریس ریلیز میں نیشنل ایکشن پلان اور ٹارگٹڈ آپریشنز کاذکر ہے۔ لوگ نیشنل ایکشن پلان کو پڑھے بغیر کنفیوژن پیدا کر رہے ہیں، ایسا نہیں کرنا چاہیے، بس حکمت عملی میں فرق ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے، عام عوام کا خون نہیں بہنا چاہیے، دہشت گردی کے مسئلے کا حل نکالنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کہہ رہی ہے کہ صرف ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نیشنل ایکشن پلان بیرسٹر گوہر پی ٹی ا ئی کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔