لگتا ہے ہمارے اس ایوان میں بیٹھنے کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں: بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اقدامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ لگتا ہے ان کے ایوان میں بیٹھنے کے دن اب گنے چنے رہ گئے ہیں۔
اپنی تقریر کے دوران چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میاں صاحب کو مکمل آزادی مل گئی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ نواز شریف کے لیے ریڈ کارپٹ بچھایا گیا، ان کی بائیو میٹرک تصدیق کی گئی، اور انہیں جیل جانے کی ضرورت پیش نہیں آئی، بلکہ انہیں دوبارہ مینڈیٹ بھی دیا گیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ ملک میں موجود جمہوری عمل وہ نہیں جو دیگر ممالک میں دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے طنزاً کہا کہ پہلی بار میاں صاحب کو ماسک کے بغیر دیکھا گیا اور لگتا ہے کہ آزادی کے بعد ان کی رویت معمول کے مطابق ہو گئی ہے۔
عمران خان سے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نواز شریف نے دیر سے بیان دیا اور اس دوران ہمارے بچوں کو ہراساں کیا گیا، اپوزیشن لیڈر کی سیٹ چھینی گئی اور دیگر سیٹیں بھی محدود نہیں رہیں، بلکہ انہیں بھی چھینا گیا، یہ وہی صورت حال ہے جو ایوب خان کے دور میں دیکھی گئی تھی، جب اقتدار کا مرکز تبدیل ہوا۔
اپنے خطاب میں انہوں نے بھارت کے خلاف موقف کی بھی تصدیق کی اور کہا کہ پی ٹی آئی ہمیشہ پاکستان کے مفاد میں بھارت کے خلاف موقف رکھے گی اور آج تقریباً تین کروڑ عوام کی نمائندگی پی ٹی آئی کر رہی ہے۔
آخر میں بیرسٹر گوہر نے زور دے کر کہا کہ لگتا ہے اب ہمارے ایوان میں بیٹھنے کے دن محدود ہیں، اور حکومت نے صرف ایک سیٹ نہیں بلکہ ہم سب کی نمائندگی کی جگہیں بھی محدود کر دی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر پی ٹی آئی لگتا ہے کہا کہ
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.