نائیجیریا: مسلح حملے میں کیتھولک اسکول کے 200 سے زائد طلبہ اغوا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
نائیجریا میں ایک اسکول سے 200 سے زائد طلبہ کو اغوا کر لیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا کے مطابق نائیجریا میں ایک کیتھولک اسکول سے بڑے پیمانے پر طلبہ کو اغوا کر لیا گیا، جس میں 227 طلبہ اور 12 اساتذہ شامل ہیں، واقعہ شمال مغربی نائیجریا میں جمعہ کو پیش آیا، جب مسلح افراد نے اسکول میں داخل ہو کر طلبہ اور اساتذہ کو اسلحہ کے زور پر اغوا کیا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق کرسچن ایسوسی ایشن آف نائیجیریا نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے اور بتایا کہ کچھ طلبہ فرار ہونے میں کامیاب ہوئے، تاہم بڑی تعداد مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا ہو گئی۔
کرسچن ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے اسکول کا دورہ بھی کیا اور بتایا کہ واقعے کی شدت 2024 کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا ہے، اس سے قبل 2024 میں کدانا ریاست میں تقریباً 200 طلبہ اغوا ہوئے تھے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق پولیس اور مقامی انتظامیہ نے بھی سینٹ میری اسکول سے طلبہ اور اساتذہ کے اغوا کی تصدیق کی ہے اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
حکام نے کہا ہے کہ اغوا شدگان کی فوری بازیابی کے لیے ریسکیو آپریشنز اور حفاظتی اقدامات جاری ہیں۔ واقعہ نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ یہ بچوں اور تعلیمی اداروں کی حفاظت کے لیے سنگین خطرے کی عکاسی کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔