کراچی سمیت ملک بھر کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
کراچی سمیت ملک بھر کے لیے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق کراچی سمیت ملک کے تمام علاقوں میں بجلی 8 پیسے فی یونٹ مہنگی کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا بڑا ریلیف پیکج، سیلاب زدہ علاقوں کے 25 لاکھ سے زیادہ گھروں کے بجلی بل معاف
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اضافہ اگست 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت کیا گیا ہے، اور حکومتی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق اس کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا۔
نیپرا کے نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ اضافی وصولی اکتوبر کے بلوں میں کی جائے گی۔
واضح رہے کہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے اگست کی ایڈجسٹمنٹ میں 19 پیسے فی یونٹ اضافے کی سفارش کی تھی۔
29 ستمبر کو نیپرا نے ملک بھر میں بجلی مزید مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
سی پی پی اے کی جانب سے اگست 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ سے متعلق درخواست نیپرا میں جمع کرائی گئی تھی۔
نیپرا کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ڈسکوز کے اگست کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ پر عوامی سماعت نیپرا ہیڈکوارٹر میں چیئرمین نیپرا کی زیر صدارت مکمل کی گئی۔
اعلامیے کے مطابق عوامی سماعت میں سی پی پی اے جی کے حکام، وزارتِ توانائی کے نمائندوں، بزنس کمیونٹی، صحافیوں اور عام شہریوں نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں بجلی صارفین پر گردشی قرضے کا بوجھ: حکومت کا لائحہ عمل کتنا مؤثر ہے؟
سی پی پی اے جی نے ایف سی اے (فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ) کی مد میں 19 پیسے فی یونٹ اضافے کی تجویز پیش کی تھی، جس کا اطلاق صرف ایک ماہ کے لیے کیا جائےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اضافہ اضافی وصولی بجلی کی قیمت سی پی پی اے کراچی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ نیپرا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اضافہ اضافی وصولی بجلی کی قیمت سی پی پی اے کراچی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ نیپرا وی نیوز ماہانہ ایڈجسٹمنٹ سی پی پی اے میں بجلی کے لیے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔