سونے کے بعد چاندی کی قیمت میں بھی تیزی سے اضافہ، وجہ کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
عالمی مارکیٹ کے بعد پاکستان میں بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ سونا پہلے ہی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو چکا ہے جبکہ اب چاندی کی قیمتوں نے بھی تیزی سے نئی حد عبور کر لی ہے۔
ماہرین اس رجحان کو عالمی منڈی میں غیریقینی حالات روپے کی گرتی ہوئی قدر، صنعتی طلب اور مقامی سرمایہ کاری کے رجحان کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
اردونیوزکی رپور ٹ کےمطابق چیئرمین آل پاکستان جیولرز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن محمد ارشد کے مطابق اکتوبر 2025 کے دوسرے ہفتے سے 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت چار لاکھ روپے سے زائد ریکارڈ کی جا رہی ہے جبکہ عالمی سطح پر بھی سونا مضبوط پوزیشن میں ہے جہاں فی اونس سونے کی قیمت چار ہزار امریکی ڈالر سے زائد تک جا پہنچی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’دوسری جانب چاندی کی قیمتوں میں غیرمعمولی تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ملک بھر میں چاندی کی فی تولہ قیمت پانچ ہزار روپے سے زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ گذشتہ چار ماہ میں چاندی کی قیمت میں 40 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے بڑا سبب روپے کی گرتی ہوئی قدر ہے۔ پاکستانی روپے کی قیمت جب بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں کمزور ہوتی ہے تو عالمی منڈی سے درآمد کی جانے والی اشیا خصوصاً قیمتی دھاتیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔
کراچی کے مالیاتی تجزیہ کار اور سینیئر صحافی وکیل الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں کا انحصار عالمی مارکیٹ پر ہے، اور یہ چوںکہ ڈالر میں طے ہوتی ہیں، اس لیے روپے کی قدر میں کمی براہِ راست ان کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔
ڈالر کی قدر میں معمولی اضافہ بھی سونے کی فی تولہ قیمت میں ہزاروں روپے کا فرق ڈال دیتا ہے۔
عالمی سطح پر سونا اور چاندی ایک مرتبہ پھر سرمایہ کاری کے محفوظ ترین ذرائع بن چکے ہیں۔
افراطِ زر میں اضافہ، بینکوں کی شرح سود میں غیریقینی اور جغرافیائی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو دوبارہ قیمتی دھاتوں کی طرف مائل کر دیا ہے۔
پاکستان میں قیمتی دھاتوں کی خرید و فروخت صرف سرمایہ کاری تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی اور ثقافتی طور پر بھی اہم ہے۔ شادیوں کے موسم میں زیورات کی خریداری بڑھنے سے مارکیٹ میں طلب میں اضافہ ہوتا ہے۔
کراچی کے صرافہ بازاروں کے مطابق سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کی وجہ سے اب خریداری کا رجحان بہت کم دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب چاندی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے ایک نیا رجحان بھی سامنے آیا ہے۔ چاندی صرف زیورات کے لیے نہیں بلکہ صنعتی مقاصد جیسے سولر پینلز، میڈیکل آلات، بیٹریوں اور الیکٹرانک پرزہ جات میں بھی وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ چاندی کی قیمت میں اضافہ صرف مالیاتی رجحان نہیں بلکہ صنعتی ضرورت کا نتیجہ ہے۔ جیسے جیسے دنیا قابلِ تجدید توانائی کی طرف جا رہی ہے، چاندی کی عالمی طلب بڑھ رہی ہے۔ اس کے اثرات پاکستان جیسے درآمدی ملک پر براہِ راست پڑتے ہیں۔
عام صارفین اور چھوٹے سرمایہ کار متاثر
قیمتوں کے اس مسلسل اضافے نے عوام اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔
کراچی کے رہائشی محمد شاہد کہتے ہیں کہ چاندی پہلے عام آدمی کی بچت ہوا کرتی تھی۔ اب یہ بھی اتنی مہنگی ہو گئی ہے کہ ہاتھ سے نکل رہی ہے۔ چھوٹے سرمایہ کار کے پاس اب محفوظ سرمایہ کاری کے زیادہ مواقع نہیں رہے۔
زیورات ساز صنعت بھی خام مال کی مہنگائی کے دباؤ میں ہے۔ کراچی جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق کام میں واضح کمی واقع ہوئی ہے، کیونکہ خام مال کی قیمت بڑھنے سے پیداواری لاگت بڑھ گئی ہے جبکہ صارفین بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے کم خریداری کر رہے ہیں۔
پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں کا بڑھنا بظاہر سرمایہ کاروں کے لیے خوش آئند نظر آتا ہے، مگر مجموعی طور پر یہ معیشت کے لیے ایک نئی آزمائش ہے۔ یہ اضافہ نہ صرف عام صارفین کے بجٹ پر بوجھ ڈال رہا ہے بلکہ زیورات کی صنعت، درآمدی توازن اور مالیاتی پالیسی کے لیے بھی چیلنج بن چکا ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر روپے کو استحکام اور مالیاتی نظم نہ ملا تو یہ رجحان آنے والے مہینوں میں مزید بڑھ سکتا ہے۔ پاکستان کی مارکیٹ میں سونا اور چاندی فی الحال دونوں اپنی تاریخی چمک برقرار رکھے ہوئے ہیں، مگر ان کی یہ چمک معیشت کے گہرے زخموں کی عکاسی بھی کر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چاندی کی قیمتوں کی قیمتوں میں چاندی کی قیمت پاکستان میں سرمایہ کاری کی قیمت میں اور چاندی روپے کی سونے کی کے لیے رہی ہے
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں