Jasarat News:
2025-11-29@13:24:16 GMT

حکومت کی نئی ایڈجسٹمنٹ پالیسی کے تحت بجلی مہنگی کردی گئی

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

حکومت کی نئی ایڈجسٹمنٹ پالیسی کے تحت بجلی مہنگی کردی گئی

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی مہنگی کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت اگست کے لیے بجلی 8 پیسے فی یونٹ مہنگی کی گئی ہے، جس کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا۔

نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اضافہ حکومت کی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق کیا گیا ہے، جب کہ اس اضافی وصولی کا اطلاق صارفین کے اکتوبر کے بلوں میں ہوگا۔

دستاویز کے مطابق سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے اگست کے لیے 19 پیسے فی یونٹ اضافے کی سفارش کی تھی، تاہم نیپرا نے 8 پیسے فی یونٹ اضافہ منظور کیا۔

ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں کے ساتھ منسلک ہوتا ہے، جس کے باعث صارفین کو ہر ماہ نیا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

.

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران سے بلوچستان کیلئے درآمدی بجلی 18 روپے فی یونٹ، سینیٹ میں حکومتی وضاحت پیش

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے مکران ڈویژن کیلئے ایران سے درآمد کی جانے والی بجلی کی قیمت کے حوالے سے اہم معلومات سینیٹ میں پیش کر دی گئیں،  ایوان کے اجلاس کی صدارت چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے کی، جس دوران وقفہ سوالات میں ارکان پارلیمنٹ نے مختلف اہم امور پر حکومتی وضاحتیں طلب کیں۔

میڈیا رپورٹس کےمطابق اجلاس کے آغاز پر چیئرمین سینیٹ نے 356ویں اجلاس کے لیے پینل آف چیئرز کا اعلان کیا، جن میں سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر عمر فاروق اور سینیٹر افنان اللہ شامل تھے۔ وقفہ سوالات کے دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید نے مائیک دینے کی گزارش کی تاہم چیئرمین نے رولز کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں تقریر کے لیے بعد میں وقت دینے کی یقین دہانی کرائی۔

ایران سے مکران ڈویژن کو فراہم کی جانے والی بجلی کے نرخ سے متعلق سوال کے جواب میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ پاکستان ایران سے زیادہ سے زیادہ 204 میگاواٹ تک بجلی درآمد کرنے کی استعداد رکھتا ہے جب کہ خریداری کا نرخ 18 روپے فی یونٹ مقرر ہے۔

سینیٹر جان محمد نے استفسار کیا کہ خریداری قیمت کے بجائے صارفین کو اصل میں کتنے روپے میں یہ بجلی فراہم کی جاتی ہے؟ اس پر وزیر نے واضح کیا کہ ایران سے خریدی گئی بجلی وہی نرخ رکھتی ہے جو مقامی طور پر مقرر ٹیرف میں شامل ہوتے ہیں، یوں قیمت خرید ہی قیمت فروخت قرار پاتی ہے۔

اجلاس کے دوران پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی لیوی سے متعلق سوالات بھی اٹھائے گئے۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ 16 اپریل 2025ء سے 30 ستمبر 2025ء تک اضافی لیوی کی مد میں 66 ارب 13 کروڑ روپے جمع کیے گئے،  پیٹرولیم لیوی کی تمام وصولیاں وفاقی مشترکہ فنڈ میں جاتی ہیں، اور اخراجات یا تقسیم کا اختیار پیٹرولیم ڈویژن کے پاس نہیں۔

پیٹرولیم ڈویژن نے مزید وضاحت کی کہ حکومت نے سڑکوں کی تعمیر کے لیے پیٹرول پر 8 روپے اور ڈیزل پر 7 روپے فی لیٹر لیوی عائد کر رکھی ہے۔ اس پالیسی کے تحت مجموعی طور پر 200 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے، جس کی وصولی کا عمل جاری ہے۔

ایوان کو بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے سبب صارفین کو ریلیف فراہم کرنا محدود رہا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی

متعلقہ مضامین

  • بجلی کے محکموں کے ملازمین کو ماہانہ 300 سے 1300 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کیے جانے کا انکشاف
  • ملک میں صنعتی بجلی کی طلب میں 25 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ
  • پاکستان ایران سے 18 روپے فی یونٹ بجلی خریدتا ہے
  • ایران سے بلوچستان کیلئے درآمدی بجلی 18 روپے فی یونٹ، سینیٹ میں حکومتی وضاحت پیش
  • پاکستان ایران سے بجلی 18روپے فی یونٹ خریدتا ہے؟ سینیٹ میں وضاحت
  • حکومت نے آئی ایم ایف کی ایک اور بڑی شرط پوری کردی
  • پاکستان ایران سے بجلی کتنے روپے فی یونٹ خریدتا ہے؟ سینیٹ میں وضاحت
  • ایک ماہ کیلئے بجلی 65 پیسے فی یونٹ سستی ہونے کا امکان،سی پی پی اے
  • صارفین کےلیے خوشخبری؛ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی سستی ہونے کا امکان 
  • بجلی صارفین کیلئے اچھی خبر