اگر امریکہ اپنے طرز عمل پر بضد رہا تو چین یقیناً جوابی اقدامات اختیار کرے گا،چینی وزارت تجارت
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
اگر امریکہ اپنے طرز عمل پر بضد رہا تو چین یقیناً جوابی اقدامات اختیار کرے گا،چینی وزارت تجارت WhatsAppFacebookTwitter 0 12 October, 2025 سب نیوز
بیجنگ :چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے چین کی حالیہ معاشی اور تجارتی پالیسیوں اور اقدامات کے بارے میں صحافیوں کے سوالات کے جواب میں کہا کہ چین نے نوٹ کیا ہے کہ درمیانے درجے اور بھاری ریئر ارتھ میٹلز سے متعلق اشیاء کاعسکری میدان میں وسیع اور اہم استعمال ہوتا ہے۔ چین قانون کے مطابق متعلقہ اشیاء پر برآمدی کنٹرول عائد کرتا ہے تاکہ عالمی امن اور علاقائی استحکام کو بہتر طور پر برقرار رکھا جائے اور عدم پھیلاؤ جیسی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے اعلان سے قبل چین نے تمام متعلقہ ممالک اور علاقوں کو دو طرفہ ایکسپورٹ کنٹرول ڈائیلاگ میکانزم کے ذریعے آگاہ کر دیا تھا۔ ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ چین کے برآمدی کنٹرول پر اقدامات ،برآمدات پر پابندی نہیں ہیں ۔ جب تک یہ شہری مقاصد کے لئے استعمال ہوں ، ان کی منظوری دی جا سکتی ہے، اور متعلقہ کاروباری اداروں کو اس سلسلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ چین عالمی صنعتی اور سپلائی چین کی سلامتی اور استحکام کو بہتر بنانے کے لئے دوسرے ممالک کے ساتھ ایکسپورٹ کنٹرول ڈائیلاگ اور تبادلے کو مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
امریکا کی جانب سے چین پر 100 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کے اعلان کے حوالے سے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک طویل عرصے سے امریکا نے قومی سلامتی کے تصور کا بےجا استعمال کرکے چین کے خلاف امتیازی سلوک اختیار کیا ہے اور اس کی کنٹرول لسٹ میں 3 ہزار سے زائد اشیاء شامل ہیں جبکہ چین کی ایکسپورٹ کنٹرول لسٹ میں صرف 900 سے زائد اشیاء شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خاص طور پر ،رواں سال ستمبر میں میڈرڈ میں چین-امریکہ معاشی اور تجارتی مذاکرات کے بعد سے ، صرف 20 دن میں ، امریکہ نے چین پر نئی پابندیوں کا ایک سلسلہ متعارف کرایا ہے اور کنٹرول شدہ کاروباری اداروں کے دائرہ کار کو وسعت دینے میں اپنی من مانی کی ہے ، جس سے ہزاروں چینی کاروباری ادارے متاثر ہوئے ہیں۔ چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے کہا کہ امریکا نے چین کے خیر سگالی اور اس کے خدشات کو نظر انداز کرتے ہوئے چین کی سمندری ، لاجسٹک اور جہاز سازی کی صنعتوں کے لئے 301 اقدامات پر عمل درآمد پر اصرار کیاہے۔ امریکا کےان اقدامات نے فریقین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی مذاکرات کے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے جس کی چین سختی سے مخالفت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اپنے طرز عمل پر بضد رہا تو چین اپنے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے یقیناً جوابی اقدامات اختیار کرے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفیلڈ مارشل کی قیادت میں بہادر افواج نے دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا، رانا ثنااللہ ذبیح اللہ مجاہد کا 58 پاکستانی فوجی شہید کرنے کا دعویٰ اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کل صبح شروع ہو گی: اعلیٰ عہدیدار حماس غزہ جنگ بندی کا پہلا مرحلہ مکمل، امریکا کے 200 فوجی اسرائیل پہنچ گئے افغان فورسز کی بلااشتعال فائرنگ اور پاکستان کے بھرپور جواب کے بعد سعودی عرب کا ردعمل سامنے آ گیا خواتین ،بچوں ،آل چائنا ویمنز فیڈریشن اور خاندانی تعلیم اور خاندانی روایات پر چینی صدر کے بیانات کے اقتباسات کے کثیر السان ایڈیشنز کی... امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ کا دورہ غزہ، حماس کا غیرمسلح ہونے سے انکار
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ چینی وزارت تجارت کے لئے کہ چین چین کی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔