نیپرا نے بجلی 8 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی، عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ملک بھر کے بجلی صارفین پر ایک اور مالی بوجھ ڈال دیا ہے اور اگست کے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں 8 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اضافہ اگست 2025 کے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت کیا گیا ہے جس کا اطلاق کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین پر ہوگا، لائف لائن صارفین کو اس فیصلے سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
اتھارٹی کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے نیپرا سے درخواست کی تھی کہ اگست کے مہینے میں فیول لاگت میں اضافہ ہوا، لہٰذا اس کی ایڈجسٹمنٹ صارفین سے وصول کرنے کی اجازت دی جائے، اس پر سماعت کے بعد نیپرا نے 8 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی۔
ماہرین توانائی کے مطابق یہ اضافہ معمولی ضرور ہے لیکن اس کے باوجود صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ ڈالے گا، خاص طور پر ایسے حالات میں جب پہلے ہی مہنگائی اور بجلی کے بل عوام کے لیے ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ اضافہ صارفین کے اکتوبر کے بلوں میں شامل کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ نیپرا کی جانب سے جلد اس حوالے سے تفصیلی نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار کے فیول ایڈجسٹمنٹ اضافے حکومت کی توانائی پالیسی پر سوالیہ نشان ہیں۔ توانائی کے متبادل ذرائع پر انحصار بڑھانے کے بجائے درآمدی ایندھن پر انحصار کے باعث عوام کو مہنگی بجلی بھگتنی پڑ رہی ہے۔
خیال رہےکہ بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافوں کی ٹائم لائن کے مطابق ستمبر 2025 میں فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 1.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پیسے فی یونٹ کی منظوری کے مطابق
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔