حکومت کا بڑا ریلیف پیکج، سیلاب زدہ علاقوں کے 25 لاکھ سے زیادہ گھروں کے بجلی بل معاف
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے 25 لاکھ سے زائد گھریلو صارفین کے اگست کے بجلی بل معاف کر دیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گوجرانوالہ، پشاور، ملتان، لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد اور قبائلی علاقوں کے صارفین کو مجموعی طور پر 17 ارب روپے سے زائد کا ریلیف دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کے بجلی بلوں پر بڑے ریلیف کا فیصلہ، ٹیکسز ختم کرنے پر غور
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ گوجرانوالہ الیکٹرک سپلائی کمپنی (گیپکو) کے 15 لاکھ صارفین اور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیپکو) کے 4 لاکھ 75 ہزار صارفین کے بل معاف کیے گئے ہیں۔
اسی طرح ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی (میپکو) کے 2 لاکھ 65 ہزار، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کے 77 ہزار، لاہور کے 48 ہزار اور فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کے 1 لاکھ 65 ہزار صارفین کو بھی بلوں سے استثنا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کو 24 گھنٹے بجلی کی بلاتعطل فراہمی کی قرارداد منظور
پاور ڈویژن کے مطابق قبائلی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے 1 ہزار صارفین کو اگست کے بل ادا نہیں کرنے ہوں گے، جب کہ سکھر الیکٹرک سپلائی کمپنی کے متاثرہ صارفین سے متعلق سروے جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئیسکو اسلام اباد اگست بجلی بل پاکستان پشاور پیپکو سیلاب فیسکو فیصل آباد گیپکو لاہور ملتان وفاقی حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئیسکو اسلام اباد اگست بجلی بل پاکستان پشاور سیلاب فیسکو فیصل ا باد گیپکو لاہور ملتان وفاقی حکومت الیکٹرک سپلائی کمپنی بجلی بل
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔