تھائی،ملائشیا،انڈونیشیا: دہائیوں بعد بدترین سیلاب کی زد میں، اموات 33 ہوگئیں
اشاعت کی تاریخ: 27th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تھائی لینڈ نے بدھ کے روز ایک ڈوبے ہوئے جنوبی شہر میں مریضوں کو فضائی راستے سے منتقل کیا، اور آکسیجن ٹینک سمیت اہم سامان پہنچایا، خطے میں برسوں کے بدترین سیلابوں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 33 ہوگئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سیلاب نے تھائی لینڈ کے 9 صوبوں اور پڑوسی ملک ملائیشیا کے 8 صوبوں کے ساتھ ساتھ انڈونیشیا کو بھی دوسرے مسلسل سال اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کو تقریباً 50 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔
انڈونیشیا میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کا تخمینہ 13 ہے، جب کہ ملائیشیا میں ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی 3 روزہ طوفانی بارش نے تھائی لینڈ کے جنوبی تجارتی مرکز ہاٹ یائی میں ریکارڈ پانی برسایا، جس سے ہسپتال زیرِ آب آگئے اور ہزاروں افراد چھتوں پر پھنس گئے۔
جمعہ کے روز شہر میں 335 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ 300 برسوں میں ایک دن میں سب سے زیادہ ہے۔
تھائی فوج نے کشتیوں، ہیلی کاپٹروں اور حتیٰ کہ اپنے واحد طیارہ بردار جہاز کو بھی سامان کی ترسیل اور مریضوں کے انخلا کے لیے متحرک کر دیا ہے۔
انتہائی موسمی حالات عالمی درجہ حرارت میں اضافے کا نتیجہ ہوسکتے ہیں، کیوں کہ سمندر کی سطح کا زیادہ درجہ حرارت ٹراپیکل طوفانوں کو زیادہ طاقتور بنا دیتا ہے۔
بجلی کے بغیر، شہر کے کچھ حصے بدھ کی رات دیر تک اندھیرے میں ڈوبے رہے اور تقریباً کمر تک گہرے بھورے گھومتے ہوئے پانی میں گھرے رہے۔
ریسکیو کارکن متاثرہ محلّوں میں سے کشتیاں دھکیلتے ہوئے گزر رہے تھے، جن میں سے بعض میں اپنے گھروں سے نکالے گئے رہائشی سوار تھے۔
سوشل میڈیا پر صوبائی حکام کی جانب سے جاری ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کئی علاقوں میں سیلاب کا پانی بتدریج کم ہو رہا ہے، لیکن تیز بہاؤ کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
تھائی فوج نے اس علاقے میں تقریباً 200 کشتیاں اور 20 ہیلی کاپٹر تعینات کیے ہیں، اور حکام کو سوشل میڈیا کے ذرائع سے تقریباً 77 ہزار افراد کی جانب سے مدد کی اپیلیں موصول ہوئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔