4 بڑے سیلابوں میں تقریباً 4700 افراد جان کی بازی ہار چکے ،جو کسی بھی جنگ سے زیادہ انسانی نقصان ہے،سینیٹر مصدق ملک
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا ہے سیلابوں کے باعث پاکستان کو ہر سال تقریباً 9.5 فیصد جی ڈی پی کے براہِ راست اور بالواسطہ نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں،گلیشیئر پگھلاؤ کے نتیجے میں بارشوں کے پیٹرن، دریاؤں کے بہاؤ اور نہری نظام میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو مستقبل میں غذائی تحفظ کے لئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوں گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان بزنس کونسل کے زیرِ اہتمام منعقدہ پینل مباحثے”کلائمیٹ ریزیلینس تاخیر کی قیمت کون چکائے گا؟“ میں شرکت کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔مکالمے میں مختلف سٹیک ہولڈرز نے موسمیاتی تغیرات کے باعث بڑھتے ہوئے انسانی، معاشی اور ماحولیاتی نقصانات پر گفتگو کی۔
پولیس نے جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما فرخ کھوکھر کو حراست میں لے لیا، نجی نیوز چینل کادعویٰ
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے اپنے خطاب میں پاکستان میں موسمیاتی آفات کے تباہ کن اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چار بڑے سیلابوں میں تقریباً 4700 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جو کسی بھی جنگ سے زیادہ انسانی نقصان ہے جس کا ملک نے سامنا کیا ہو۔ مزید برآں 18 ہزار کے قریب افراد زخمی یا مستقل معذور ہوئے جبکہ 30 لاکھ سے زائد شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی قیمت صرف معاشی نہیں، اس میں معذوری، اموات، تعلیمی نقصان اور معاش کے بگاڑ جیسے پہلو شامل ہیں۔ پاکستان کا محلِ وقوع جو ہمالیہ کے دامن میں واقع ہےتیزی سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہے،گلیشیئر پگھلاؤ کے نتیجے میں بارشوں کے پیٹرن، دریاؤں کے بہاؤ اور نہری نظام میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں جو مستقبل میں غذائی تحفظ کے لئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوں گی۔
پسند کی شادی کا کیس، لڑکی عدالت میں مُکر گئی، لاہورہائیکورٹ نے نوجوان کو 50 ہزار روپے جرمانہ کردیا
عالمی کاربن اخراج میں شدید عدم توازن پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا عالمی اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے جبکہ دو پڑوسی ممالک تقریباً 40 فیصد خارج کرتے ہیں اور دنیا کے دس ممالک مجموعی طور پر 70 فیصد سے زائد اخراج کے ذمہ دار ہیں، اس کے باوجود پاکستان دنیا کے سب سے زیادہ موسمیاتی طور پر غیر محفوظ ممالک میں شامل ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔