غیر معمولی نیلامی: معدوم ہویہ پرندے کا ایک پر 28 ہزار ڈالر میں فروخت
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ویلنگٹن: نیوزی لینڈ میں نایاب اور انتہائی محفوظ حالت میں پایا جانے والا ہویہ (Huia) پرندے کا ایک پر 46 ہزار نیوزی لینڈ ڈالر (تقریباً 28 ہزار 365 امریکی ڈالر) میں نیلام ہوا، جس نے دنیا کا سب سے مہنگا پر ہونے کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کےمطابق یہ پرندہ جو صرف نیوزی لینڈ میں پایا جاتا تھا، گزشتہ صدی کے اوائل میں ناپید ہو گیا، یورپی باشندوں کی آمد کے بعد یہ پرندہ پہلے ہی کم ہوتا جا رہا تھا مگر اس کے خوبصورت پروں کی مانگ نے اس کی تباہی میں اہم کردار ادا کیا۔
ہویہ کے پر قدیم دور میں قبائلی سرداروں اور معزز شخصیات کے درمیان فخر اور رتبے کی علامت سمجھے جاتے تھے بعد ازاں فیشن انڈسٹری اور کلیکٹرز کی دلچسپی نے اس کی بقا کو مزید خطرے میں ڈال دیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ پر اصل میں نیلامی میں 3 ہزار ڈالر تک فروخت ہونے کی توقع تھی، تاہم بولی کے دوران عالمی کلیکٹرز کی دلچسپی نے قیمت کو کئی گنا بڑھا دیا۔
خیال رہےکہ نیوزی لینڈ کا ہویہ (Huia) پرندہ اپنی خوبصورت سیاہ چمکدار پَر، سفید سرے والے دم اور نر و مادہ کی منفرد چونچ کی بناوٹ کے باعث دنیا کے سب سے نایاب اور دلچسپ پرندوں میں شمار ہوتا تھا، یہ پرندہ صرف نیوزی لینڈ کے جنگلات میں پایا جاتا تھا اور مقامی ماوری قبائل کے لیے مقدس حیثیت رکھتا تھا۔
ہویہ کی خاص بات یہ تھی کہ نر کی چونچ چھوٹی اور مضبوط جبکہ مادہ کی چونچ لمبی اور خم دار ہوتی تھی، جس سے دونوں مختلف طریقے سے خوراک حاصل کرتے تھے ، نر لکڑی چیر کر کیڑے نکالتا اور مادہ درخت کی دراڑوں سے رس یا کیڑے تلاش کرتی تھی۔
بدقسمتی سے یورپی تاجروں اور کلیکٹرز کی لالچ نے اس نایاب پرندے کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیا۔ بیسویں صدی کے آغاز تک ہویہ مکمل طور پر معدوم ہو گیا۔
حال ہی میں اس نایاب پرندے کا ایک پَر حیران کن طور پر 28 ہزار ڈالر (تقریباً 46 ہزار نیوزی لینڈ ڈالر) میں نیلام ہوا، جس نے دنیا کا سب سے مہنگا پَر ہونے کا ریکارڈ قائم کیا۔ یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ قدرت کے نایاب خزانے کی حفاظت انسان کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نیوزی لینڈ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔