چاند نظر نہیں آیا، یکم جمادی الثانی اتوار کو ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
اجلاس میں شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا بعدازاں رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ چاند نظر نہیں آیا اس لیے یکم جمادی الثانی اتوار 23 نومبر کو ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ ماہ جمادی الثانی کا چاند نظر نہیں آیا، یکم تاریخ اتوار کو ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق ماہ جمادی الثانی 1447 ہجری کا چاند دیکھنے کے لیے چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد کی زیرصدارت اجلاس زونل رویت ہلال کمیٹی لاہور کی عمارت میں ہوا۔ اجلاس میں رابطے کے فرائض وزارت مذہبی امور حکومت پاکستان سے حافظ عبدالقدوس اور ڈاکٹر شاہد الرحمن نے ادا کیے، فنی معاونت کے لیے محکمہ موسمیات سے ڈاکٹر محمد حسن علی بیگ موجود تھے، زونل رویت کمیٹی پاکستان کے ارکان مفتی محمد احمد، مولانا فتح محمد راشدی نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں شہادتوں کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا بعدازاں رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا کہ چاند نظر نہیں آیا اس لیے یکم جمادی الثانی اتوار 23 نومبر کو ہوگی۔ اجلاس میں مولانا مختیار احمد ندیم، مفتی محمد عمران حنفی، علامہ زبیر احمد ظہیر و دیگر علماء کرام میں مفتی محمد شفیق اعوان، مفتی عارف حسین نعیمی، مفتی اعجاز سلیم، سید عبدالبصیر آزاد، مولانا محمد احمد، حاجی غلام حسین شامل تھے۔ محکمہ سپارکو سے شوکت اللہ خان اور وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی حکومت پاکستان سے جوائنٹ سیکرٹری زین العابدین ٹیلی فون پررابطے میں تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چاند نظر نہیں ا رویت ہلال کمیٹی جمادی الثانی اجلاس میں کو ہوگی
پڑھیں:
کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
فیروزوالہ (نامہ نگار) شرقپور خورد کوٹ عبدالمالک میں ایک شخص وقاص احمد نے بیوٹی پارلر پر جا کر سابقہ بیوی مسرت بی بی اور جواں سال بیٹی ایمان فاطمہ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد تیزاب پھینک دیا جس سے مسرت بی بی جسم پر تیزاب پڑنے سے بری طرح جھلس گئی جبکہ ایمان فاطمہ معمولی زخمی ہوئی۔ دریں اثناء ایس ایچ او کوٹ عبدالمالک نے بتایا ہے کہ ملزم وقاص احمد نشہ کا عادی ہے۔ وقوعہ کے وقت وقاص احمد اپنی بیٹی ایمان فاطمہ کو ملنے کی خاطر سابقہ بیوی مسرت بی بی کے بیوٹی پارلر پر آیا جہاں مسرت بی بی نے بیٹی کو ملانے سے انکار کر دیا۔ ملزم شیخوپورہ کے قریب قصبہ بھکھی میں رہ رہا ہے جس کو گرفتار کرنے کی خاطر اس کے تمام ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔