غزہ میں شدید بارشوں سے سیلاب، ہزاروں بے گھر فلسطینی متاثر
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
رام اللہ : غزہ میں شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جس سے ہزاروں فلسطینیوں کے خیمے پانی میں ڈوب گئے ہیں اور سخت سردی کے باعث مقامی افراد کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تقریباً 20 لاکھ کی آبادی والے غزہ میں اکثریت لوگ پہلے ہی اسرائیلی حملوں کے دوران بے گھر ہو کر عارضی پناہ گاہوں میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے، اکتوبر کے وسط کے بعد سے جنگ بندی برقرار ہے، تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی وجہ سے لوگوں کی زندگی مشکلات کا شکار ہے۔
غزہ کے شہری ام احمد عوضہ نے کہا کہ ان کے خیمے اور ترپال دونوں خراب ہو چکے ہیں اور سردیوں کا آغاز ہونے کے ساتھ ہی سیلاب نے حالات مزید مشکل بنا دیے ہیں۔
فلسطینی این جی اوز نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا نے بتایا کہ تقریباً 15 لاکھ بے گھر افراد کے لیے کم از کم 3 لاکھ نئے خیموں کی فوری ضرورت ہے، پچھلے ہفتے شدید بارشوں کے دوران ساحلی علاقوں میں پانی کی سطح 40 سے 50 سینٹی میٹر بلند ہونے کی وجہ سے کئی خیمے مکمل طور پر بہہ گئے جبکہ ایک فیلڈ ہسپتال بھی عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے، اسرائیل کی جانب سے محدود ٹرکوں کے داخلے اور بعض ضروری اشیا کی پابندیوں کی وجہ سے امدادی کام متاثر ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔