لیسکو کو بجلی چوروں سے 1 ارب 35 کروڑ کا خسارہ ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
لیسکو کو بجلی چوروں سے واجبات اور بلز کی وصولیوں کی مد میں 1 ارب 35 کروڑ روپے کا خسارہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ دو سال کے دوران 26 ہزار سے زائد بجلی چوروں کے خلاف مقدمات تو درج کروائے، مگر ان سے واجبات کی ریکوری ممکن نہیں بنائی جا سکی۔
آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لیسکو نے بجلی چوروں کے خلاف الزامات کو ثابت کر کے بھی واجبات کی وصولی یقینی نہیں بنائی۔ رپورٹ کے مطابق بجلی چوری کے مختلف طریقے استعمال کیے گئے جن میں ڈائریکٹ سپلائی، میٹر ٹمپرنگ اور دیگر ہتھکنڈے شامل ہیں۔
قبائلی عوام نےافغانستان کے حمایت یافتہ دہشتگردوں کیخلاف ہتھیار اٹھانے کا اعلان کردیا
یہ رپورٹ لیسکو کی مانیٹرنگ اینڈ ٹیسٹنگ (ایم اینڈ ٹی) اور سرویلنس اینڈ انوسٹی گیشن (ایس اینڈ آئی) کے ریکارڈ کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ میں بجلی چوری کی روک تھام اور مالی نقصانات کی تلافی کے لیے کمپنی کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بجلی چوروں
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔