Jasarat News:
2026-07-24@07:04:39 GMT

پولیس چیف کے نئے احکامات سے مختلف حلقوں میں تشویش

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (رپورٹ /واجد حسین انصاری) کراچی پولیس چیف کے نئے احکامات کے بعد شہر میں ٹریفک پولیس عملی طورپر غیر فعال ہوگئی۔ کراچی پولیس اب شہر میں جعلی، غیر قانونی اور ناقابلِ شناخت نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرے گی جبکہ شہر میں اسٹریٹ کرائم اوردیگر جرائم کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس کو گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے احکامات دینے سے اب ان کی توجہ اس جانب زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہر تھانہ اپنی حدود میں اسنیپ چیکنگ کرتا ہے، اب ان احکامات کے تحت 5 دسمبر کے بعد تمام گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس کو چیکنگ کے دوران روک کر چیک کیا جائے گا، چیکنگ کے دوران پولیس دیکھے گی کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر جو نمبر پلیٹ آویزاں ہیں وہ غیر قانونی یا ناقابل شناخت تو نہیں ہیں۔ کراچی پولیس چیف کے ان احکامات پر مختلف حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر قائد میں امن و امان کی صورت حال پہلے ہی مخدوش ہے۔ اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں وقت کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ کراچی پولیس سنگین جرائم کی بیخ کنی کے بجائے گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی نمبر پلیٹس چیک کرنے کی ذمہ داری دینے سے ان کی تمام توجہ اس جانب مبذول ہوجائے گی اور رشوت ستانی کا ایک نیا راستہ کھل جائے گا۔ کراچی پولیس چیف کے اس فیصلے کے بعد شہر قائد میں اب ٹریفک پولیس عملی طور پر غیر فعال ہوگئی ہے۔ ٹریفک پولیس سے چالان کرنے کا اختیار پہلے ہی واپس لے لیا گیا ہے اور اب گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی چیکنگ بھی ڈسٹرکٹ پولیس کرے گی۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو اپنی توجہ سنگین جرائم کی بیخ کنی کی طرف کرنا ہوگی جبکہ نمبر پلیٹس کی چیکنگ ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے اس لیے ایک مؤثر میکنزم بنا کر ٹریفک پولیس کو اس حوالے سے فعال کیا جائے۔

واجد حسین انصاری گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پولیس چیف کے کراچی پولیس ٹریفک پولیس نمبر پلیٹس گاڑیوں اور

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا