پولیس چیف کے نئے احکامات سے مختلف حلقوں میں تشویش
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ /واجد حسین انصاری) کراچی پولیس چیف کے نئے احکامات کے بعد شہر میں ٹریفک پولیس عملی طورپر غیر فعال ہوگئی۔ کراچی پولیس اب شہر میں جعلی، غیر قانونی اور ناقابلِ شناخت نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کرے گی جبکہ شہر میں اسٹریٹ کرائم اوردیگر جرائم کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس کو گاڑیوں کے خلاف کارروائی کے احکامات دینے سے اب ان کی توجہ اس جانب زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہر تھانہ اپنی حدود میں اسنیپ چیکنگ کرتا ہے، اب ان احکامات کے تحت 5 دسمبر کے بعد تمام گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی نمبر پلیٹس کو چیکنگ کے دوران روک کر چیک کیا جائے گا، چیکنگ کے دوران پولیس دیکھے گی کہ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر جو نمبر پلیٹ آویزاں ہیں وہ غیر قانونی یا ناقابل شناخت تو نہیں ہیں۔ کراچی پولیس چیف کے ان احکامات پر مختلف حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شہر قائد میں امن و امان کی صورت حال پہلے ہی مخدوش ہے۔ اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں وقت کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ کراچی پولیس سنگین جرائم کی بیخ کنی کے بجائے گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی نمبر پلیٹس چیک کرنے کی ذمہ داری دینے سے ان کی تمام توجہ اس جانب مبذول ہوجائے گی اور رشوت ستانی کا ایک نیا راستہ کھل جائے گا۔ کراچی پولیس چیف کے اس فیصلے کے بعد شہر قائد میں اب ٹریفک پولیس عملی طور پر غیر فعال ہوگئی ہے۔ ٹریفک پولیس سے چالان کرنے کا اختیار پہلے ہی واپس لے لیا گیا ہے اور اب گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کی چیکنگ بھی ڈسٹرکٹ پولیس کرے گی۔ ان حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس کو اپنی توجہ سنگین جرائم کی بیخ کنی کی طرف کرنا ہوگی جبکہ نمبر پلیٹس کی چیکنگ ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے اس لیے ایک مؤثر میکنزم بنا کر ٹریفک پولیس کو اس حوالے سے فعال کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پولیس چیف کے کراچی پولیس ٹریفک پولیس نمبر پلیٹس گاڑیوں اور
پڑھیں:
کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
فائل فوٹوکراچی کے علاقے احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش ملی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی موت بظاہر طبعی لگتی ہے، مزید تحقیقات کر رہے ہیں، :لڑکی کی رات گئے طبعیت خراب ہوئی تھی، انسٹیٹیوٹ میں اسپتال بھی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ کے ہاسٹل میں رہائش پذیر تھی۔