واٹس ایپ نے صارفین کو پروفائل میں فیس بک آئی ڈی کا لنک شامل کرنے کی سہولت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
واٹس ایپ نے اپنے تازہ ترین بیٹا اپ ڈیٹ میں نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت صارفین اب اپنے فیس بک پروفائل کا لنک واٹس ایپ پروفائل پر شامل کر سکتے ہیں۔ اس فیچر کا مقصد میٹا کے پلیٹ فارمز کے درمیان رابطہ مزید آسان بنانا ہے۔
بیٹا ورژن میں شامل اس فیچر کے ذریعے صارف اپنے واٹس ایپ پروفائل پر فیس بک لنک جوڑ سکتے ہیں، جو ان تمام افراد کو نظر آئے گا جو ان کا پروفائل دیکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے آئی او ایس صارفین کے لیے کالز ہب فیچر لانچ کردیا
یہ لنک میٹا اکاؤنٹس سینٹر کے ذریعے تصدیق شدہ ہوگا تاکہ واضح ہو سکے کہ دونوں پروفائلز ایک ہی شخص کے ہیں۔ تصدیق شدہ لنک کے ساتھ ایک چھوٹا بیج ظاہر ہوگا، جبکہ غیر تصدیق شدہ لنک مکمل یو آر ایل کی صورت میں دکھائی دے گا۔
فیچر کو فعال کرنے کے لیے صارفین Settings > Privacy > Links میں جا کر اپنی مرضی کے مطابق لنک کی نمائش کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ صارف یہ طے کر سکتے ہیں کہ لنک سب کو دکھایا جائے، صرف منتخب رابطوں کو یا مکمل طور پر نجی رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے اسٹیٹس شیئرنگ کے لیے نئے فیچرز متعارف کروا دیے
یہ اپ ڈیٹ اس سے قبل متعارف کرائے گئے ان فیچرز کے تسلسل میں ہے جن کے ذریعے صارفین انسٹاگرام پروفائلز کو جوڑنے اور واٹس ایپ اسٹیٹس کو براہِ راست انسٹاگرام پر شیئر کرنے کی سہولت حاصل کر چکے ہیں۔
ابتدائی طور پر یہ فیچر محدود صارفین کے لیے دستیاب ہے، تاہم توقع ہے کہ آزمائش مکمل ہونے کے بعد جلد ہی تمام واٹس ایپ صارفین کے لیے جاری کر دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news Whatsapp انسٹاگرام پروفائل ٹیکنالوجی فیس بک لنک میٹا واٹس ایپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسٹاگرام پروفائل ٹیکنالوجی فیس بک میٹا واٹس ایپ واٹس ایپ نے فیس بک کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔