سعودی کابینہ نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ ختم کرنے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے کے منصوبے کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کا خیرمقدم کیا اور فوری مذاکرات کے ذریعے منصوبے کے نفاذ کے طریقہ کار پر اتفاق رائے قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ریاض میں کابینہ کے اجلاس کی صدارت وزیرِ اعظم اور ولی عہد محمد بن سلمان نے کی۔

علاقائی صورتحال پر غور

اجلاس کے بعد سعودی پریس ایجنسی کو جاری بیان میں وزیرِ میڈیا سلمان الدوسری نے بتایا کہ کابینہ نے موجودہ علاقائی حالات، خاص طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال پر غور کیا۔

کابینہ نے سعودی عرب میں منعقد ہونے والی تمام بین الاقوامی میٹنگز کا جائزہ لیا اور عالمی امن و سلامتی کو فروغ دینے، عالمی چیلنجز سے نمٹنے اور ترقی کی حمایت کے لیے مشترکہ ہم آہنگی اور کثیرالجہتی مکالمے کے عزم کی تصدیق کی۔

بین الاقوامی اجلاسوں کی تعریف

سلمان الدوسری نے کہا کہ کابینہ نے حالیہ مونیخ سیکیورٹی کانفرنس کے رہنماؤں کے اجلاس کی بھی تعریف کی جو العلا میں ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا نے پاکستان اور سعودی عرب کو ایئر ٹو ایئر میزائل پروگرام میں شامل کرلیا

اس اجلاس میں سینیئر بین الاقوامی اہلکاروں نے علاقائی ترقیات، عالمی خوراک کی حفاظت، ماحولیاتی اور توانائی کے مسائل، اور بین الاقوامی تجارتی و اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

سائبر سیکیورٹی اقدامات

کابینہ نے سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے دوسرے باقاعدہ اجلاس برائے عرب سائبر سیکیورٹی وزرا کونسل کے نتائج کی بھی تعریف کی۔

اس اجلاس کی کامیابیاں، جن میں مشترکہ اقدامات، تعاون اور یکجہتی شامل ہیں، عرب سائبر اسپیس کو محفوظ اور قابل اعتماد بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی اور ترقی و خوشحالی کو فروغ دیں گی۔

علاوہ ازیں کابینہ نے ریاض میں منعقد ہونے والے پانچویں عالمی سائبر سیکیورٹی فورم کے نتائج کی تعریف کی اور اس فورم کے آغاز اور اقدامات کو سراہا، جن سے سعودی عرب کی عالمی قیادت، بین الاقوامی شراکت داری کی حمایت اور انسانی و معاشرتی خوشحالی کے عزم کی تصدیق ہوئی۔

ثقافتی ترقی کی میزبانی

کابینہ نے 2029 میں یونیسکو عالمی کانفرنس برائے ثقافتی پالیسیاں اور پائیدار ترقی کی میزبانی کے لیے سعودی عرب کے انتخاب کا بھی خیرمقدم کیا، جس سے ملک کی قومی، علاقائی اور عالمی حیثیت اور ثقافت کے فروغ میں اس کی شراکت کی تصدیق ہوتی ہے۔

اقتصادی اور مالیاتی جائزہ

گھریلو سطح پر کابینہ نے 2026 کے ابتدائی مالیاتی بجٹ کے اشارے کا جائزہ لیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ بجٹ جامع اقتصادی ترقی، سماجی اخراجات اور مالیاتی استحکام کو فروغ دیتا ہے، جس سے سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔

تعلیمی اور تحقیقی اقدامات

کابینہ نے نیو ہیون یونیورسٹی کی شاخ ریاض میں قائم کرنے اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے ہیلتھ ریسرچ کے قیام کی منظوری دی۔

بین الاقوامی تعاون اور MoUs

کابینہ نے سعودی وزارت خارجہ یا اس کے نائب کو تھائی لینڈ کے وزارتِ خارجہ کے ساتھ سیاسی مشاورت کے لیے مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر بات چیت اور دستخط کی اجازت دی، اور سعودی وزارت ماحولیات، پانی و زراعت کو آذربائیجان کے وزارتِ زراعت کے ساتھ زرعی شعبے میں MoU پر بات چیت اور دستخط کی اجازت دی۔

یہ بھی پڑھیں:2 روزہ پاک-سعودی اقتصادی مذاکرات آج سے، سرمایہ کاری کے اہم منصوبوں پر پیشرفت کا امکان

اس کے علاوہ کابینہ نے سعودی وزارت صحت اور مصر کی وزارت صحت و آبادی کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کے لیے MoU اور سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات اور ایسٹونیا کے درمیان شماریات کے شعبے میں تعاون کے لیے MoU کی بھی منظوری دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ریاض سعودی عرب سعودی کابینہ محمد بن سلمان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ریاض سعودی کابینہ کابینہ نے سعودی بین الاقوامی اقدامات کا کی تصدیق کے لیے

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔

ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے