برطانوی وزیرِاعظم نے انڈیا روانگی سے قبل بھارتیوں کو بُری خبر سنا دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
برطانوی وزیرِاعظم سر کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ بھارت کے لیے ویزا قوانین میں نرمی نہیں کرے گا، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں ہونے والے تجارتی معاہدے سے اربوں پاؤنڈ کی اقتصادی سرگرمیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
سر کیئر اسٹارمر بھارت روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’ یہ معاملہ ویزا کا نہیں، بلکہ کاروباری تعلقات، سرمایہ کاری، روزگار اور خوشحالی کا ہے جو برطانیہ میں آنی چاہیے۔‘
تجارتی معاہدے کی تفصیلاتبرطانیہ اور بھارت کے درمیان جولائی 2025 میں ایک اہم تجارتی معاہدہ طے پایا تھا جس پر کئی سال سے مذاکرات جاری تھے۔
معاہدے کے مطابق برطانوی کاریں اور وہسکی بھارت میں سستی ہو جائیں گی۔ جبکہ بھارتی ٹیکسٹائلز اور جیولری برطانیہ میں کم ٹیکس کے ساتھ درآمد کی جا سکیں گی۔
یہ بھی پڑھیے برطانیہ: بھارتی نوجوان ریسٹورنٹ میں کھانے کے بعد 200 پاؤنڈ کا بل ادا کیے بغیر فرار
بھارتی ملازمین کو 3سال کے لیے سوشل سکیورٹی سے استثنا بھی دیا گیا ہے، بشرطیکہ وہ قلیل مدتی ویزا پر ہوں۔ تاہم برطانوی وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تبدیلیاں امیگریشن پالیسی کا حصہ نہیں اور کسی نئے ویزہ پروگرام کا عندیہ نہیں دیتیں۔
حکومتی ترجیح: امیگریشن میں کمیلیبر پارٹی کی حکومت نے حالیہ دنوں میں امیگریشن کم کرنے کی سخت پالیسی کا اعلان کیا ہے۔
پارٹی کانفرنس میں سیٹلمنٹ اسٹیٹس پر بھی مزید سخت شرائط عائد کرنے کی بات کی گئی۔
سر کیئر اسٹارمر نے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویزے بھارت کے ساتھ معاہدے کا حصہ نہیں تھے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا میں صدر ٹرمپ کی H-1B ویزا پالیسی میں تبدیلی کے بعد برطانیہ ٹیکنالوجی ماہرین کو متوجہ کرنے کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا؟ تو اسٹارمر نے کہا
’ہم دنیا بھر سے ٹیلنٹ لانا چاہتے ہیں تاکہ برطانوی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے، لیکن بھارت کے لیے نئے ویزا راستے کھولنے کا کوئی منصوبہ نہیں۔‘
تجارتی وفد اور نئے فضائی منصوبےوزیرِاعظم کے ساتھ 100 سے زائد کاروباری شخصیات، تعلیمی رہنما اور یونیورسٹی وائس چانسلرز بھارت کے 2 روزہ دورے پر شامل ہیں۔
ان میں شامل برٹش ایئرویز نے اعلان کیا کہ وہ اگلے سال سے دہلی اور ہیتھرو کے درمیان تیسری روزانہ پرواز شروع کرے گی۔
جبکہ مانچسٹر ایئرپورٹ نے بھی دہلی کے لیے براہِ راست فضائی روٹ متعارف کرانے کا اعلان کیا۔
دورے کے دوران سر اسٹارمر کی ملاقات بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سے متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے امریکی صدر سے قریبی تعلقات عالمی رہنماؤں کو ’بدترین حالات‘ سے نہیں بچا سکتے، جان بولٹن
مودی نے اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو سالگرہ کی مبارکباد دی تھی، تاہم اسٹارمر نے واضح کیا
’میں نے پیوٹن کو کوئی سالگرہ کی مبارکباد نہیں دی، نہ دینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہونی چاہیے۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مودی حکومت کو روسی تیل کی خریداری پر تنقید کا نشانہ بنائیں گے، تو اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ کی توجہ روس کے ’شیڈو فلیٹ‘ پر ہے یعنی وہ غیر رجسٹرڈ آئل ٹینکرز جو روسی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹارمر نے بھارت کے کے لیے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آپریشن "نصر 2" کی 26 ویں لہر کے دوران مشترکہ حملوں میں کویت کے العدیری فوجی اڈے پر قائم امریکی الیکٹرانک وارفیئر کے خصوصی یونٹ کو تباہ کر دیا۔ بیان کے مطابق اس یونٹ سے وابستہ ایک مرکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ اڈے کے فضائی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا۔ پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی جارح کو سزا دینے کے سلسلے کی کڑی ہے اور امریکی فوج کی ان کارروائیوں کا جواب ہے، جن میں جمعرات کی صبح امام حسینؑ کے روضے کی جانب جانے والے زائرین کے راستے کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان کے مطابق امریکی حملے میں عراق کی سرحد پر واقع شلمچہ بارڈر کراسنگ پر دو افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
سپاہ پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں برطانیہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف استعمال ہونے والا برطانوی اڈہ جائز ہدف تصور ہو گا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ روز بحرِ ہند میں موجود اپنے بحری بیڑے کے کروز میزائل ختم ہونے کے بعد برطانیہ کے فیئرفورڈ فضائی اڈے سے اڑنے والے B-1 بمبار طیاروں کا استعمال کیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے ایک بار پھر ایرانی وزارتِ خارجہ کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا ہر فوجی اڈہ ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ بیان کے اختتام پر برطانیہ کی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ خطے کے عوام کی مشکلات کی بنیادی ذمہ دار ہے اور اسلامی ممالک کی تقسیم، قتلِ عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام، فلسطین پر قبضے کی منصوبہ بندی اور اسرائیل کے قیام میں اس کا کردار تاریخ کا حصہ ہے۔ بیان میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ برطانیہ نے ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل آج ہی ایرانی وزارتِ خارجہ نے برطانوی حکومت کے اس فیصلے کی مذمت کی تھی، جس کے تحت امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی حملوں کی تیاری کے لیے برطانوی فوجی اڈوں اور تنصیبات کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ان حملوں کی تیاری یا ان پر عمل درآمد میں کسی بھی قسم کا تعاون جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت کے مترادف ہوگا۔