دائیں بازو سے محروم سریا کاٹنے والے خضر حیات معذوری کو مصیبت نہیں آزمائش سمجھتے ہیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
پشاور کے نواحی علاقے سے تعلق رکھنے والے نوجوان خضر حیات سخت محنت مزدوری کرتے ہیں اور کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔
یہ بھی پڑھیں: اے پی ایس اٹیک میں بیٹا کھونے والی باہمت بیوہ جو اسلام آباد میں پکوڑے بیچتی ہیں
بچپن میں ایک حادثے نے ان کی زندگی بدل دی۔ چارہ کاٹنے کی مشین میں آنے سے ان کا دائیں بازو ضائع ہوگیا مگر انہوں نے معذوری کو قدرت کی جانب سے ایک آزمائش سمجھ کر قبول کیا۔
ایک بازو سے محروم ہونے کے باجود خضر حیات محنت سے حلال روزی کماتے ہیں اور آج وہ اپنے بائیں ہاتھ سے سریا کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔ نہ مشین کی مدد سے، نہ کسی کے سہارے سے بلکہ صرف اپنی جسمانی طاقت اور حوصلے کے زور پر۔
وہ دن بھر سخت دھوپ، شور اور تھکن کے باوجود اپنے ایک ہاتھ سے سریے کاٹتے اور زیر تعمیر چھت تک پہنچاتے رہتے ہیں۔
مزید پڑھیے: راولپنڈی میں باہمت ماں، بیٹیوں کا پراٹھا اسٹال
یہ کام عام آدمی کے لیے سخت مشکل اور مشقت کا ہے لیکن خضر حیات کے لیے یہی زندگی اور یہی ان کا فخر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ہاتھ نہیں پھیلاتا، بس بائیں ہاتھ سے کماتا ہوں اور رزق حلال ہی اصل طاقت ہے۔
خضر حیات روزانہ تقریباً 700 روپے اجرت پر کام کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ایک ہاتھ سے دوسرا کوئی کام ممکن نہیں مگر وہ ہار نہیں مانتے۔
ان کے 2 بچے ہیں جن کے بہتر مستقبل کے لیے وہ دن رات اپنی محنت کو عبادت بنا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: مارشل آرٹ میں پاکستان کا نام روشن کرنے والی کوئٹہ کی باہمت خواتین
ان کی کوشش ہے کہ محنت سے کچھ بچا کر اپنا کوئی کام شروع کریں تاکہ اس سخت مشقت سے نکل سکیں۔ ان کی زندگی تکلیف دہ ہے لیکن وہ گلہ کرنے کی بجائے محنت پر یقین رکھتے ہیں اور پرامید ہیں کہ وہ مستقبل میں اپنا کام شروع کریں گے۔ دیکھیے ان باہمت نوجوان کی کہانی ان کی اپنی زبانی اس ویڈیو رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پشاور پشاور کا باہمت نوجوان پشاور کے خضر حیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور پشاور کا باہمت نوجوان پشاور کے خضر حیات خضر حیات ہاتھ سے کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان