data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاک بھارت جنگ میں بھارت جب سے پاکستان سے ذلت آمیز سے دو چار ہوا ہے ایسا محسوس ہورہا کہ اس کے اوسان خطا ہو چکے ہیں اور وہ اپنی شکست کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے اس کا اظہار وہ متعدد بار کر چکا ہے اس کا ایک اور مظاہرہ پاکستان بھارت کے کرکٹ میچ کے دوران دبئی میں دیکھنے میں آیا۔ جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے بھارتی کرکٹ ٹیم نے ٹرافی نہیں لی تو بھارت کو جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اور تو اور اپنے پرائے سب بھارت پر اب تھو تھو کررہے ہیں۔ بھارت نے اپنے پاگل پن کو سچ ثابت کرنے کے لیے بھارتی کرکٹ بورڈ کو حکم دیا ہے کہ وہ دبئی میں محسن نقوی کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کروائے اور اس پر اب بھارتی کرکٹ بورڈ سر جوڑ کر بیٹھ گیا ہے اور محسن نقوی کے خلاف دبئی میں مقدمہ درج کرانے پر غورکیا جارہا ہے۔ بھارت کے میڈیا ہمیشہ ہی سے جھوٹ پر چلتا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کا کہنا ہے کہ میں نے نہ تو بی سی سی آئی سے معافی مانگی ہے اور نہ ہی کبھی مانگوں گا۔
بھارت کی اس ہٹ دھرمی اور ایشیا کپ ٹرافی کے تنازع پر نیا طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔ ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی نے بھارتی میڈیا کی پھیلائی گئی خبروں کو جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ’میں نے نہ تو بی سی سی آئی سے معافی مانگی ہے اور نہ ہی کبھی مانگوں گا۔ بھارتی میڈیا جھوٹ پر چلتا ہے، حقائق پر نہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دبئی میں اے سی سی اجلاس کے دوران بھارتی کرکٹ بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے محسن نقوی سے ٹرافی دینے کا مطالبہ کیا لیکن محسن نقوی نے واضح کر دیا کہ یہ معاملہ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں۔ ذرائع کے مطابق راجیو شکلا نے بار بار ٹرافی کے لیے اصرار کیا لیکن محسن نقوی نے کہا کہ ’اگر بھارتی ٹیم کو ٹرافی چاہیے تو خود اے سی سی کے دفتر آ کر وصول کرے۔ محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ وہ فائنل کے روز بھی ٹرافی دینے کے لیے موجود تھے لیکن بھارتی ٹیم نے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا۔ نتیجتاً تقریب ڈیڑھ گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی اور میدان میں رکھی ٹرافی واپس لے جائی گئی۔ جبکہ بھارتی کھلاڑی اس کا انتظار کرتے رہ گئے۔ بھارتی میڈیا اور بورڈ نے اس معاملے کو سیاست کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بی سی سی آئی نے محسن نقوی کے خلاف دبئی میں ٹرافی کی ’’چوری‘‘ اور ’’زبردستی قبضے‘‘ کی شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور انہیں 72 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔ جس پر محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ وہ بی سی سی آئی سے کبھی معافی نہیں مانگیں گے۔ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ بھارت کھیل کو سیاست میں گھسیٹ رہا ہے اور یہ رویہ نہ صرف کرکٹ کی غیر جانبداری بلکہ کھیل کی اصل روح کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی کھلاڑیوں نے ٹرافی کے ساتھ جعلی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال کر اپنے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی، جبکہ سابق بھارتی کرکٹرز کپل دیو اور سید کرمانی خود اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ کھیل کو سیاست سے آلودہ کرنا افسوسناک عمل ہے اور اس کے مستقبل میں خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ بھارت نے کھیل میں سیاست کو داخل کر کے خود اپنے لیے مسائل کھڑے کر دیے ہیں اور اپنے غیر سب اس کے خلاف ہوگئے ہیں۔ پاکستان ہار کر جیت گیا ہے اور بھارت جیت کر ہار گیا ہے۔ ہندوتوا جو کہ بھارت میں مسلم دشمنی میں پاگل ہوگیا ہے اور اس نے مسلمانوں ودیگر اقلیتوں کو دیوار سے لگایا ہوا ہے ایسے میں ایشیا کپ کے فائنل میں جو کچھ بھی ہوا ہے وہ کرکٹ کی تاریخ میں ایک سیاہ داغ کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ بھارت نے اپنی گندی ذہنیت سے کرکٹ کے ماحول کو گندا کردیا ہے اور اس کی یہ غلاظت کبھی بھی بھلائی نہیں جاسکے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا محسن نقوی نے بھارتی کرکٹ کرکٹ بورڈ کے خلاف ہے اور اور اس
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ