حماس کو مٹانے کی دھمکی دینے والا اسرائیل آج مذاکرات پر مجبور ہے، مشاہد حسین
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: سینیٹر مشاہد حسین کاکہنا ہے کہ اسرائیل نے ماضی میں حماس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی بات کی تھی مگر اب وہ خود مذاکرات کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق مشاہد حسین نے حماس کے مجاہدین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پُختہ مزاحمت نے معاملات کی سمت بدل دی ہے، دو سال قبل اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ حماس کو مٹا دیں گے، لیکن آج اسرائیل اور حماس مذاکرات کر رہے ہیں اور یہ مذاکرات در حقیقت امریکہ کی سرپرستی میں ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حماس کے ٹویٹس کو ری ٹویٹ کر رہے ہیں، 22 ستمبر کو بائیڈن اور مودی نے اعلان کیا کہ نیا کوریڈر بن رہا ہے جبکہ 24 ستمبر کو نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں جو نقشہ دکھایا اس میں فلسطین کا نام شامل نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں ہر ایک گھنٹے میں ایک فلسطینی بچہ شہید ہوا اور اسرائیل نے متعدد ممالک پر حملے کیے، عالمی سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلی آئی ہے اور پاکستان کا علاقائی سیاسی مقام مضبوط ہو رہا ہے۔
مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کو جنگ میں شکست دی اور بھارت کے پیچھے اسرائیل تھا؛ ایران نے بھی اسرائیل کو ہرایا اور اسرائیل کے پیچھے بھارت تھا۔
انہوں نےمزید کہا کہ ایران کے سلامتی مشیر علی لاریجانی اگلے ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے،پاکستان کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں،سینیٹر نے تصدیق کی کہ پاکستان کا موقف یہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے اور افغانستان کے معاملے میں چین، پاکستان اور افغانستان مشترکہ کوششیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بگرام ایئربیس امریکا کو نہیں دیا جائے گا اور افغان طالبان اسے کبھی تسلیم نہیں کریں گے، مجھے نہیں لگتا کہ اب بھارت دوبارہ پاکستان پر جنگ مسلط کرے گا کیونکہ گزشتہ جھڑپوں میں بھارت کو واضح مار پڑی ہے اور اگر دوبارہ کوئی جارحیت ہوگی تو پاکستان کڑا جواب دے گا، مغرب اور امریکا کی عالمی ساکھ میں کمی آ رہی ہے جبکہ پاکستان کی خطے میں پوزیشن مضبوط ہوتی جارہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مشاہد حسین انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔