شہبازشریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’مین آف دی پیس‘ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
شہبازشریف نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’مین آف دی پیس‘ قرار دیدیا WhatsAppFacebookTwitter 0 14 October, 2025 سب نیوز
وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے نوبل انعام کیلئے دوبارہ نامزد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں امن کیلئے انکا کردار تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ ٹرمپ جنوبی ایشیا میں دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ نا رکواتے تو کوئی یہاں یہ بتانے کیلئے موجود نا ہوتا کہ کیا ہوا۔
پیر کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف یہاں غزہ امن معاہدے پر دستخطوں کے بعد امریکی صدر کی پریس کانفرنس کے دوران عالمی رہنماؤں کے ہمراہ موجود تھے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پریس کانفرنس کے دوران امن معاہدے کیلئے دیگر رہنماؤں کیساتھ انکے اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہا اور انکے لیے توصیفی کلمات ادا کیے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کی انتھک کوششوں سے امن کے قیام کیلئے معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر امن کے داعی ہیں ، انہوں نے دن رات امن اور خوشحالی کیلئے کوششیں کی ہیں۔ پاکستان نے انکے امن کیلئے غیر معمولی کردار پر انہیں امن کے نوبل انعام کیلئے نامزد کیا تھا۔ آج وہ دوبارہ انہیں اس انعام کیلئے نامزد کرتے ہیں کیونکہ وہ اسکے حقدار ہیں۔ انہوں نے امن کیلئے کوششیں کرکے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ امریکی صدر کی امن کیلئے کوششوں پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں،انکی قیادت بے مثال اور دور اندیش ہے، دنیاکو اس وقت ایسی قیادت کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی کاوشوں کو دنیا ہمیشہ یاد رکھے گی انہوں نے 8 جنگیں رکوائی ہیں۔ پاکستان اور بھارت جو ایٹمی طاقتیں ہیں، چار روزہ جنگ اگر امریکی صدر کی مداخلت سے نا روکی جاتی تو ایسی تباہی پھیلتی کہ کوئی یہاں یہ بتانے کیلئے موجود نا ہوتا کہ وہاں کیا ہوا۔
وزیر اعظم نے مشرق وسطی میں امن کیلئے امیر قطر ، اردن کے شاہ عبد اللہ، سعودی عرب کے وزیر اعظم و ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ، یو اے ای اورمصر کے صدر السیسی سمیت دوست ممالک کی قیادت کو سراہتے ہوئے ان کا بھی شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے امن کیلئے کردار کو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کیلئے نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔ امریکی صدر نے وزیر اعظم کے خیالات کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں بھارت کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا انکی خواہش ہے کہ پاکستان اور بھارت امن سے رہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحماس کا بڑا اقدام، 20 یرغمالیوں کے بعد 4 مغویوں کی لاشیں بھی اسرائیل کے حوالے امریکا، مصر، ترکیہ اور قطر کے سربراہان نے غزہ امن معاہدے پر دستخط کردیے وزیراعظم کی صدر ٹرمپ سمیت عالمی رہنماوں سے ملاقاتیں، فلسطین سے یکجہتی کا اعادہ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں پر تشدد ناقابل برداشت ہے، مولانا فضل الرحمان کا سخت ردعمل روس کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ صورتحال پر اظہارِ تشویش راولپنڈی ڈویژن کے تمام اضلاع میں دفعہ 144نافذ، جلوسوں، ریلیوں، مظاہروں پر پابندی صدر ٹرمپ مصر پہنچ گئے، غزہ امن مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ