Juraat:
2026-06-03@04:48:44 GMT

ٹرمپ کا نوبیل خواب چکناچور

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

ٹرمپ کا نوبیل خواب چکناچور

پروفیسر شاداب احمد صدیقی

نوبیل انعام میں ٹرمپ کی ناکامی سے یہ بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ امن قائم کرنے کے لیے سالوں بے مثال جدوجہد کرنی پڑتی ہے اس کے پس منظر میں نوبیل امن کا لالچ نہیں ہوتا ہے ۔یہ وقت ثابت کرتا ہے کہ کس نے امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ٹرمپ کے لیے تو بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
امن انعام خواہشات کا پابند نہیں ہے ۔دنیا کی سیاست میں نوبیل امن انعام محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک علامت ہے ایسی علامت جو
عالمی ضمیر، انسانی وقار اور امن کے استحکام کی نمائندگی کرتی ہے ۔ 2025کے نوبیل امن انعام کا فیصلہ اسی علامتی طاقت کا مظہر ثابت ہوا
جب ناروے کی نوبیل کمیٹی نے ایک مرتبہ پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس ایوارڈ سے محروم رکھا۔ ان کی تمام تر مہم، بیانات اور امن کے
دعووں کے باوجود، کمیٹی نے واضح پیغام دیا کہ نوبیل کا معیار کسی سیاسی دباؤ، عوامی تاثر یا میڈیا مہم سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ صرف میرٹ،
استحکام اور دیرپا امن کے اصولوں پر قائم ہے ۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نوبیل امن انعام کے لیے نامزدگیوں کا سلسلہ ہر سال 31 جنوری کو بند ہو جاتا ہے ، جبکہ 2025میں ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنی دوسری مدتِ صدارت کے لیے حلف اٹھا چکے تھے ۔ اس کا
مطلب یہ ہے کہ ان کے وہ حالیہ اقدامات، جنہیں وہ اپنی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہیں، جیسے اسرائیل اور حماس کے درمیان ممکنہ
جنگ بندی یا وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو کی حمایت، اس سال کے نوبیل انعام کے دائرے میں شامل نہیں ہو سکے ۔ اس
حقیقت نے ٹرمپ کی امیدوں کو ابتدا ہی سے محدود کر دیا تھا، تاہم انہوں نے اپنی روایتی سیاسی حکمتِ عملی کے مطابق نوبیل انعام کے لیے
کھلے عام مہم چلائی، جسے مبصرین نے ان کی ناکامی کی ایک بنیادی وجہ قرار دیا۔ہنری جیکسن سوسائٹی سے وابستہ تجزیہ کار تھیئو زینو کے مطابق،
نوبیل امن انعام محض چند مہینوں کی سرگرمی یا کسی تازہ سیاسی معاہدے کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ برسوں کی تحقیق، تصدیق اور عالمی اثرات کے
گہرے جائزے کے بعد دیا جاتا ہے ۔ ان کے مطابق، نوبیل کمیٹی آخری لمحات میں کسی نئے معاہدے یا میڈیا مہم کی بنیاد پر اپنے فیصلے میں
تبدیلی نہیں کرتی۔ زینو نے یہ بھی کہا کہ نوبیل کمیٹی اپنی خودمختاری پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرتی، اور یہی وجہ ہے کہ کسی امیدوار کی جانب
سے ایوارڈ حاصل کرنے کی مہم یا تشہیر الٹا اثر ڈال سکتی ہے ۔
ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کے پروفیسر میتھیو موکھیفی ایشٹن نے اس فیصلے کو ایک محتاط اور سوچے سمجھے عالمی سیاسی توازن کا حصہ قرار دیا۔ ان
کے مطابق، نوبیل کمیٹی نے یہ فیصلہ نہ صرف اپنے معیار کی حفاظت کے لیے کیا بلکہ ایک ایسے پیغام کے طور پر بھی جس سے دنیا کے طاقتور
رہنما یہ سمجھ سکیں کہ امن انعام کسی طاقت، معاہدے یا بیانیے کی مرہونِ منت نہیں بلکہ یہ انسانیت کے مفاد میں پائیدار عمل کا اعتراف ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نوبیل انعام کا نہ ملنا ٹرمپ کے لیے صرف ایک ذاتی ناکامی نہیں بلکہ ایک اخلاقی سبق بھی ہے کہ امن کو محض الفاظ یا وقتی
معاہدوں سے نہیں، بلکہ پائیدار انسانی بھروسے اور سماجی انصاف سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
نوبیل کمیٹی کے سربراہ یورگن واٹنے فرائیڈنس نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ فیصلہ الفریڈ نوبیل کی وصیت اور ان کے بنیادی اصولوں
کے عین مطابق کیا گیا۔ ان کے مطابق، کمیٹی ہر فیصلے میں میرٹ کو اولین حیثیت دیتی ہے ، نہ کہ کسی سیاسی یا سفارتی دباؤ کو۔ اس بیان نے
ٹرمپ کی اس دلیل کو بھی غیر مؤثر کر دیا کہ کمیٹی جانبداری سے کام لے رہی ہے ۔ ٹرمپ بارہا نوبیل نظام کو اشرافیہ نواز اور غیر منصفانہ قرار
دے چکے ہیں، خاص طور پر 2009 میں جب ان کے سیاسی حریف باراک اوباما کو صدر بننے کے فوراً بعد یہ اعزاز دیا گیا۔ اسی لمحے سے
ٹرمپ کے دل میں نوبیل انعام کے حصول کی خواہش ایک ذاتی جنون کی شکل اختیار کر گئی، جسے وہ اپنی عالمی ساکھ کے ساتھ جوڑتے آئے
ہیں۔تاہم 2025 کا نوبیل امن انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو کے حصے میں آیا، جنہیں جمہوریت، آزادیِ اظہار، اور
آمریت سے جمہوری انتقالِ اقتدار کے لیے پُرامن جدوجہد پر سراہا گیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف وینزویلا بلکہ دنیا بھر میں جمہوری اقدار کے احیاء
کا مظہر سمجھا گیا۔ مچاڈو کی کامیابی اور ٹرمپ کی ناکامی کا تقابل عالمی سیاست کے لیے ایک علامتی پیغام بن گیا کہ نوبیل امن انعام طاقتوروں
کے لیے نہیں بلکہ اصولوں کے لیے دیا جاتا ہے ۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق، نوبیل کمیٹی نے اس برس ریکارڈ تعداد میں نامزدگیاں موصول کیں، لیکن حتمی انتخاب اُن شخصیات کے
لیے تھا جنہوں نے حقیقی معنوں میں امن، برداشت اور انسانی مساوات کے لیے عملی قربانیاں دی تھیں۔ کمیٹی کے ایک رکن کے بقول، نوبیل
کا مقصد دنیا کے ضمیر کو جگانا ہے ، نہ کہ سیاسی شہرت کی توثیق کرنا۔ اس جملے نے ایک بار پھر یہ طے کر دیا کہ کسی بھی رہنما کی ذاتی شہرت یا
میڈیا اثر نوبیل کے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک، ٹرمپ کے لیے یہ فیصلہ ان کی دوسری مدتِ صدارت
میں اشرافیہ اور عالمی اداروں کے ساتھ بڑھتی ہوئی خلیج کی علامت بھی ہے ۔ وہ بارہا یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ بین الاقوامی ادارے
امریکہ کے اندرونی مفادات کے مخالف ایجنڈے پر چلتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نوبیل انعام کا ادارہ ہمیشہ عالمی امن کے طویل مدتی
اثرات کو دیکھتا ہے ، نہ کہ کسی رہنما کی وقتی مقبولیت یا پالیسی تبدیلی کو۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اگر ٹرمپ کے حالیہ امن اقدامات خاص طور
پر مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ جنگ بندی مستقل اور پائیدار ثابت ہوئے تو 2026 کا نوبیل انعام ان کے لیے ایک نیا موقع بن سکتا ہے ۔ نوبیل
کمیٹی کسی فرد کو مستقل بنیادوں پر خارج نہیں کرتی؛ معیار صرف ایک ہے امن کی پائیداری۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں کئی رہنماؤں نے اپنے
سابقہ اقدامات کے بعد دوبارہ نامزدگی حاصل کی، بشرطیکہ ان کے فیصلوں نے انسانی فلاح پر مثبت اثر ڈالا ہو۔اگر اس ساری صورتِ حال
کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو نوبیل کمیٹی کا یہ فیصلہ ایک عالمی اصول کی یاددہانی ہے کہ طاقت یا دولت نہیں، بلکہ نیت، مستقل مزاجی اور
انسانی وقار ہی امن کی بنیاد ہیں۔ ٹرمپ جیسے طاقتور رہنماؤں کے لیے یہ لمحہِ غور ہے کہ امن کے میدان میں کامیابی ٹویٹس یا بیانات سے نہیں
بلکہ تحمل، اعتماد اور مسلسل سفارتی عمل سے حاصل کی جا سکتی ہے ۔ اس فیصلے نے دنیا بھر کے سیاسی قائدین کو یہ پیغام دیا کہ نوبیل انعام کی
منزل اُن کے لیے نہیں جو امن کا نعرہ سیاسی فائدے کے لیے لگاتے ہیں، بلکہ اُن کے لیے ہے جو خطرات کے باوجود انصاف اور انسانیت
کے اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ نوبیل کمیٹی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ امن کا تصور وقتی جذبات یا سیاسی دباؤ سے
نہیں جیتا جا سکتا۔ نوبیل امن انعام ایک مقدس امانت ہے جو صرف اُن ہاتھوں میں دی جاتی ہے جنہوں نے انسانیت کے لیے قربانی،
برداشت اور انصاف کا راستہ اپنایا۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی عالمی امن کے خواہاں ہیں تو انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نوبیل جیتنے کا راستہ خود نوبیل کے
اصولوں سے ہو کر گزرتا ہے ، نہ کہ اُن کے خلاف۔ یہی دنیا کے ضمیر اور نوبیل روایت کا اصل پیغام ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: نوبیل امن انعام نوبیل کمیٹی نے نوبیل انعام نہیں بلکہ ہیں بلکہ یہ فیصلہ کہ نوبیل کے مطابق انعام کے نہیں ہو ٹرمپ کے ٹرمپ کی کے لیے امن کے بلکہ ا اور ان کہ امن دیا کہ کہ کسی

پڑھیں:

مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی

آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 مخصوص نشستوں کے مستقبل اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اہم مطالبات پر غور کے لیے ریاست کی سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج مظفرآباد میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کو آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں مستقبل کی سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ فیصلوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں بھی زور پکڑ گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اپوزیشن جماعتوں اور دیگر سیاسی و مذہبی حلقوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اجلاس میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات، خصوصاً مہاجرین مقیم پاکستان کی 12 اسمبلی نشستوں کے خاتمے کے مطالبے پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:جموں کشمیر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متحرک رہنما شوکت نواز میر کون ہیں؟

آزاد کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے مختلف شہروں اور علاقوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے 12 نشستیں مختص ہیں۔ ان نشستوں پر بھی آزاد کشمیر کے عام انتخابات کے ساتھ ہی ووٹنگ ہوتی ہے اور منتخب نمائندے قانون ساز اسمبلی کا حصہ بنتے ہیں۔ تاہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں ان نشستوں کے نظام پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت پیر کے روز اسلام آباد میں آزاد کشمیر کی صورتحال پر ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات اور موجودہ سیاسی ماحول پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں 9 جون کو دی جانے والی احتجاجی کال اور حالیہ مذاکراتی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق، اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق احمد، مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی، جبکہ وفاقی مذاکراتی کمیٹی کے ارکان نے بھی وزیراعظم پاکستان کو ایکشن کمیٹی کے مطالبات اور مذاکراتی عمل کے بارے میں آگاہ کیا۔

واضح رہے کہ 30 مئی کو مظفرآباد میں وفاقی مذاکراتی کمیٹی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، تاہم ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے 9 جون کے احتجاجی پروگرام کو برقرار رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر حکومت اور عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

پیر کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ ممکنہ طویل احتجاج کے پیش نظر ایک ماہ کا راشن ذخیرہ کر لیں، جبکہ 9 جون کو آزاد کشمیر بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن اور لاک ڈاؤن کی کال بھی دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 2023 میں عوامی ایکشن کمیٹی نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت متعدد عوامی مطالبات کے لیے کامیاب احتجاجی تحریک چلائی تھی، جس کے نتیجے میں حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کیے تھے۔ گزشتہ برس ستمبر میں بھی کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا تھا، جس کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری رہا۔

آزاد کشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات پر عملدرآمد ہو چکا ہے، جبکہ اشرافیہ کی مراعات اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق معاملات پر قائم کمیٹیاں اپنی سفارشات تیار کر رہی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ محض ایک انتظامی یا انتخابی مسئلہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے سیاسی ڈھانچے، نمائندگی کے نظام اور آئینی توازن سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی خود کو عوامی سطح پر مقبول سمجھتی ہے تو اسے انتخابی سیاست میں حصہ لے کر اپنی عوامی حمایت کو پارلیمانی طاقت میں تبدیل کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ریاستی امور کو احتجاجی دباؤ کے بجائے جمہوری اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا جانا زیادہ مؤثر اور پائیدار راستہ ہے۔

سیاسی حلقوں کی نظریں اب آج ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مرکوز ہیں، جہاں ہونے والے فیصلے نہ صرف مہاجرین کی نشستوں بلکہ آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال اور 9 جون کے متوقع احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر جوائنٹ کشمیر مہاجر نشستیں

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان