Juraat:
2026-07-24@07:14:54 GMT

ٹرمپ کا نوبیل خواب چکناچور

اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT

ٹرمپ کا نوبیل خواب چکناچور

پروفیسر شاداب احمد صدیقی

نوبیل انعام میں ٹرمپ کی ناکامی سے یہ بات تو ثابت ہو گئی ہے کہ امن قائم کرنے کے لیے سالوں بے مثال جدوجہد کرنی پڑتی ہے اس کے پس منظر میں نوبیل امن کا لالچ نہیں ہوتا ہے ۔یہ وقت ثابت کرتا ہے کہ کس نے امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ٹرمپ کے لیے تو بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ
حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
امن انعام خواہشات کا پابند نہیں ہے ۔دنیا کی سیاست میں نوبیل امن انعام محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک علامت ہے ایسی علامت جو
عالمی ضمیر، انسانی وقار اور امن کے استحکام کی نمائندگی کرتی ہے ۔ 2025کے نوبیل امن انعام کا فیصلہ اسی علامتی طاقت کا مظہر ثابت ہوا
جب ناروے کی نوبیل کمیٹی نے ایک مرتبہ پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس ایوارڈ سے محروم رکھا۔ ان کی تمام تر مہم، بیانات اور امن کے
دعووں کے باوجود، کمیٹی نے واضح پیغام دیا کہ نوبیل کا معیار کسی سیاسی دباؤ، عوامی تاثر یا میڈیا مہم سے متاثر نہیں ہوتا بلکہ صرف میرٹ،
استحکام اور دیرپا امن کے اصولوں پر قائم ہے ۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نوبیل امن انعام کے لیے نامزدگیوں کا سلسلہ ہر سال 31 جنوری کو بند ہو جاتا ہے ، جبکہ 2025میں ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنی دوسری مدتِ صدارت کے لیے حلف اٹھا چکے تھے ۔ اس کا
مطلب یہ ہے کہ ان کے وہ حالیہ اقدامات، جنہیں وہ اپنی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہیں، جیسے اسرائیل اور حماس کے درمیان ممکنہ
جنگ بندی یا وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو کی حمایت، اس سال کے نوبیل انعام کے دائرے میں شامل نہیں ہو سکے ۔ اس
حقیقت نے ٹرمپ کی امیدوں کو ابتدا ہی سے محدود کر دیا تھا، تاہم انہوں نے اپنی روایتی سیاسی حکمتِ عملی کے مطابق نوبیل انعام کے لیے
کھلے عام مہم چلائی، جسے مبصرین نے ان کی ناکامی کی ایک بنیادی وجہ قرار دیا۔ہنری جیکسن سوسائٹی سے وابستہ تجزیہ کار تھیئو زینو کے مطابق،
نوبیل امن انعام محض چند مہینوں کی سرگرمی یا کسی تازہ سیاسی معاہدے کا نتیجہ نہیں ہوتا، بلکہ یہ برسوں کی تحقیق، تصدیق اور عالمی اثرات کے
گہرے جائزے کے بعد دیا جاتا ہے ۔ ان کے مطابق، نوبیل کمیٹی آخری لمحات میں کسی نئے معاہدے یا میڈیا مہم کی بنیاد پر اپنے فیصلے میں
تبدیلی نہیں کرتی۔ زینو نے یہ بھی کہا کہ نوبیل کمیٹی اپنی خودمختاری پر کسی بھی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرتی، اور یہی وجہ ہے کہ کسی امیدوار کی جانب
سے ایوارڈ حاصل کرنے کی مہم یا تشہیر الٹا اثر ڈال سکتی ہے ۔
ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کے پروفیسر میتھیو موکھیفی ایشٹن نے اس فیصلے کو ایک محتاط اور سوچے سمجھے عالمی سیاسی توازن کا حصہ قرار دیا۔ ان
کے مطابق، نوبیل کمیٹی نے یہ فیصلہ نہ صرف اپنے معیار کی حفاظت کے لیے کیا بلکہ ایک ایسے پیغام کے طور پر بھی جس سے دنیا کے طاقتور
رہنما یہ سمجھ سکیں کہ امن انعام کسی طاقت، معاہدے یا بیانیے کی مرہونِ منت نہیں بلکہ یہ انسانیت کے مفاد میں پائیدار عمل کا اعتراف ہے ۔
انہوں نے کہا کہ نوبیل انعام کا نہ ملنا ٹرمپ کے لیے صرف ایک ذاتی ناکامی نہیں بلکہ ایک اخلاقی سبق بھی ہے کہ امن کو محض الفاظ یا وقتی
معاہدوں سے نہیں، بلکہ پائیدار انسانی بھروسے اور سماجی انصاف سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
نوبیل کمیٹی کے سربراہ یورگن واٹنے فرائیڈنس نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ فیصلہ الفریڈ نوبیل کی وصیت اور ان کے بنیادی اصولوں
کے عین مطابق کیا گیا۔ ان کے مطابق، کمیٹی ہر فیصلے میں میرٹ کو اولین حیثیت دیتی ہے ، نہ کہ کسی سیاسی یا سفارتی دباؤ کو۔ اس بیان نے
ٹرمپ کی اس دلیل کو بھی غیر مؤثر کر دیا کہ کمیٹی جانبداری سے کام لے رہی ہے ۔ ٹرمپ بارہا نوبیل نظام کو اشرافیہ نواز اور غیر منصفانہ قرار
دے چکے ہیں، خاص طور پر 2009 میں جب ان کے سیاسی حریف باراک اوباما کو صدر بننے کے فوراً بعد یہ اعزاز دیا گیا۔ اسی لمحے سے
ٹرمپ کے دل میں نوبیل انعام کے حصول کی خواہش ایک ذاتی جنون کی شکل اختیار کر گئی، جسے وہ اپنی عالمی ساکھ کے ساتھ جوڑتے آئے
ہیں۔تاہم 2025 کا نوبیل امن انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچاڈو کے حصے میں آیا، جنہیں جمہوریت، آزادیِ اظہار، اور
آمریت سے جمہوری انتقالِ اقتدار کے لیے پُرامن جدوجہد پر سراہا گیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف وینزویلا بلکہ دنیا بھر میں جمہوری اقدار کے احیاء
کا مظہر سمجھا گیا۔ مچاڈو کی کامیابی اور ٹرمپ کی ناکامی کا تقابل عالمی سیاست کے لیے ایک علامتی پیغام بن گیا کہ نوبیل امن انعام طاقتوروں
کے لیے نہیں بلکہ اصولوں کے لیے دیا جاتا ہے ۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق، نوبیل کمیٹی نے اس برس ریکارڈ تعداد میں نامزدگیاں موصول کیں، لیکن حتمی انتخاب اُن شخصیات کے
لیے تھا جنہوں نے حقیقی معنوں میں امن، برداشت اور انسانی مساوات کے لیے عملی قربانیاں دی تھیں۔ کمیٹی کے ایک رکن کے بقول، نوبیل
کا مقصد دنیا کے ضمیر کو جگانا ہے ، نہ کہ سیاسی شہرت کی توثیق کرنا۔ اس جملے نے ایک بار پھر یہ طے کر دیا کہ کسی بھی رہنما کی ذاتی شہرت یا
میڈیا اثر نوبیل کے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہو سکتا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے نزدیک، ٹرمپ کے لیے یہ فیصلہ ان کی دوسری مدتِ صدارت
میں اشرافیہ اور عالمی اداروں کے ساتھ بڑھتی ہوئی خلیج کی علامت بھی ہے ۔ وہ بارہا یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ بین الاقوامی ادارے
امریکہ کے اندرونی مفادات کے مخالف ایجنڈے پر چلتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نوبیل انعام کا ادارہ ہمیشہ عالمی امن کے طویل مدتی
اثرات کو دیکھتا ہے ، نہ کہ کسی رہنما کی وقتی مقبولیت یا پالیسی تبدیلی کو۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اگر ٹرمپ کے حالیہ امن اقدامات خاص طور
پر مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ جنگ بندی مستقل اور پائیدار ثابت ہوئے تو 2026 کا نوبیل انعام ان کے لیے ایک نیا موقع بن سکتا ہے ۔ نوبیل
کمیٹی کسی فرد کو مستقل بنیادوں پر خارج نہیں کرتی؛ معیار صرف ایک ہے امن کی پائیداری۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں کئی رہنماؤں نے اپنے
سابقہ اقدامات کے بعد دوبارہ نامزدگی حاصل کی، بشرطیکہ ان کے فیصلوں نے انسانی فلاح پر مثبت اثر ڈالا ہو۔اگر اس ساری صورتِ حال
کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو نوبیل کمیٹی کا یہ فیصلہ ایک عالمی اصول کی یاددہانی ہے کہ طاقت یا دولت نہیں، بلکہ نیت، مستقل مزاجی اور
انسانی وقار ہی امن کی بنیاد ہیں۔ ٹرمپ جیسے طاقتور رہنماؤں کے لیے یہ لمحہِ غور ہے کہ امن کے میدان میں کامیابی ٹویٹس یا بیانات سے نہیں
بلکہ تحمل، اعتماد اور مسلسل سفارتی عمل سے حاصل کی جا سکتی ہے ۔ اس فیصلے نے دنیا بھر کے سیاسی قائدین کو یہ پیغام دیا کہ نوبیل انعام کی
منزل اُن کے لیے نہیں جو امن کا نعرہ سیاسی فائدے کے لیے لگاتے ہیں، بلکہ اُن کے لیے ہے جو خطرات کے باوجود انصاف اور انسانیت
کے اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ نوبیل کمیٹی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ امن کا تصور وقتی جذبات یا سیاسی دباؤ سے
نہیں جیتا جا سکتا۔ نوبیل امن انعام ایک مقدس امانت ہے جو صرف اُن ہاتھوں میں دی جاتی ہے جنہوں نے انسانیت کے لیے قربانی،
برداشت اور انصاف کا راستہ اپنایا۔ اگر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی عالمی امن کے خواہاں ہیں تو انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نوبیل جیتنے کا راستہ خود نوبیل کے
اصولوں سے ہو کر گزرتا ہے ، نہ کہ اُن کے خلاف۔ یہی دنیا کے ضمیر اور نوبیل روایت کا اصل پیغام ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: نوبیل امن انعام نوبیل کمیٹی نے نوبیل انعام نہیں بلکہ ہیں بلکہ یہ فیصلہ کہ نوبیل کے مطابق انعام کے نہیں ہو ٹرمپ کے ٹرمپ کی کے لیے امن کے بلکہ ا اور ان کہ امن دیا کہ کہ کسی

پڑھیں:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔

کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔

کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔

کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل  کے پی انعام یوسف زئی مستعفی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف