Jasarat News:
2026-06-03@07:37:18 GMT

نوبیل انعام برائے معاشیات 3 ماہرین کو دینے کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سال 2025 کا نوبیل انعام برائے معاشیات 3 معاشی ماہرین کو کو دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے جوئیل موکیر، براؤن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پیٹر ہاؤاٹ اور فرانس کے کالج آف فرانس سے تعلق رکھنے والے فلپی اگیون کو رواں سال کا آخری نوبیل انعام دینے کا اعلان کیا گیا۔

ان تینوں کو یہ اعزاز ٹیکنالوجیکل تنوع سے معاشی شرح نمو میں اضافے پر کیے جانے والے کام پر دیا گیا۔

نوبیل انعام کے ساتھ دیے جانے والا 12 لاکھ ڈالرز کا نقد انعام تینوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

ان تینوں کی پیدائش امریکا سے باہر ہوئی تھی مگر سب نے امریکی یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

جوئیل موکیر نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ کس طرح ٹیکنالوجیکل تبدیلی اور بہتری نے گزشتہ 2 صدیوں کے دوران معاشی ترقی میں مدد فراہم کی اور طرز زندگی کا معیار بڑھایا۔

پیٹر ہاؤاٹ اور فلپی اگیون نے یہ نظریہ پیش کیا کہ کس طرح ایک ٹیکنالوجی میں پیشرفت نے دوسری ٹیکنالوجی کے لیے جگہ بنائی، تو ایک نسل کے لیے جو پیشرفت تھی وہ دوسری نسل کے لیے متروک بن گئی۔

نوبیل کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان تینوں نے ہمیں یہ یاد دہانی کرائی کہ گزشتہ 200 برسوں کے دوران دنیا نے انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ معاشی ترقی کو دیکھا، اس ترقی سے معیار زندگی بہتر ہوا۔

فلپی اگیون نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی پالیسیاں دنیا کے آگے بڑھنے کے عمل میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی زور دیا کہ معاشی ترقی کے ساتھ ماحولیاتی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے جبکہ آرٹی فیشل انٹیلی جنس کے شعبے میں مسابقت کو فروغ دیا جائے۔

فزکس، کیمسٹری، میڈیسن، ادب اور امن کے نوبیل انعامات کے برعکس اس انعام کو باضابطہ طور پر Sveriges Riksbank پرائز کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کا آغاز 1968 میں سویڈش مرکزی بینک نے کیا۔

اس سال دیا جانے والا انعام مجموعی طور پر 57 واں نوبیل انعام ہے۔

ویب ڈیسک مرزا ندیم بیگ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: نوبیل انعام

پڑھیں:

کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا

رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔

امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔

نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔

اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی