بنوں میں پل کو اڑانے کی کوشش ناکام، دہشت گردوں کے منصوبے خاک میں مل گئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس نے ایک بڑا دہشتگردی منصوبہ ناکام بنا دیا۔ نواحی علاقے بسیہ خیل میں واقع ایک پل کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن بم ڈسپوزل اسکواڈ نے بروقت کارروائی کر کے پل کو محفوظ رکھا۔
دہشت گردوں نے 8 سے 10 کلوگرام بارود سے بھری دیسی آئی ای ڈی کو پل کے مرکزی ستون سے منسلک کیا تھا، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے عوامی انفراسٹرکچر محفوظ رہا۔
اہل علاقہ نے پولیس کی فوری اور مؤثر کارروائی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ شر پسند عناصر کے خلاف مکمل تعاون جاری رکھیں گے۔
اسی دوران، سیکیورٹی فورسز نے ضلع بنوں میں مشترکہ آپریشن کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 8 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔
صدر مملکت آصف زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
اس سے قبل بنوں کے مختلف علاقوں میں کیے گئے آپریشنز میں 3 اہم کمانڈرز سمیت 17 دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سینٹرل پولیس آفس کے مطابق، تمام آپریشنز کے دوران پولیس اور سیکیورٹی فورسز محفوظ رہیں اور اہل علاقہ نے بھرپور تعاون کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔