سینیٹر مشتاق احمد خان اور صمود فلوٹیلا کی فتح
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
الحمدللہ، سینیٹر مشتاق احمد خان بخیریت اردن پہنچ گئے ہیں۔ گلوبل صمود فلوٹیلا اگرچہ شہرِ عزیمت (غزہ) تک پہنچنے کے اپنے ہدف کو مکمل طور پر حاصل نہ کر سکا، مگر جو کچھ اس نے حاصل کیا وہ کسی کرشمے سے کم نہیں۔ یہ قافلہ صرف امداد کا نہیں بلکہ ضمیر، جرأت اور انسانیت کا قافلہ تھا۔ یہ اس امت کی نمائندگی تھی جو مظلوموں کی آہوں سے گونجتی زمین پر پھر سے اپنے ایمان کو زندہ دیکھنا چاہتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 22 نکاتی معاہدے کے بعد جب دجالی حکمران نیتن یاہو نے تکبر سے کہا تھا کہ: ’’لو! ہم نے دنیا کی ٹیبل پلٹ دی، اسرائیل اب تنہا نہیں، بلکہ ہم نے حماس کو تنہا کر دیا ہے‘‘۔ تو گلوبل صمود فلوٹیلا نے اسی میز کو دوبارہ پلٹ دیا۔ اب ذلت، تنہائی اور لعنت کا بوجھ خود دجالیوں پر جا چکا ہے۔ اہلِ مغرب، یورپ، ایشیا، افریقا اور عرب ہر سمت سے اسرائیل پر نفرتوں اور مذمتوں کی بارش ہو رہی ہے۔ انسانی ضمیر ایک بار پھر بیدار ہو رہا ہے، اور اس بیداری میں اس فلوٹیلا کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فلوٹیلا دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ اگرچہ مسلمان حکومتیں خاموش ہیں، مگر امت کے دل اب بھی دھڑک رہے ہیں۔ یہ جہاز اور ان پر سوار افراد وہ روشنی ہیں جو اندھیروں کے سمندر میں امید کی کرن بن کر چمک رہے ہیں۔ ان کی منزل غزہ ہو نہ ہو، ان کا پیغام ضرور وہاں پہنچ گیا ہے اور یہی پیغام اسرائیل کے ظلم کے خلاف عالمی بیداری کی نئی لہر کی بنیاد ہے۔
غزہ کی سرزمین آج پھر خون میں نہا رہی ہے۔ بچے ملبے تلے دفن ہیں، مائیں اپنے جگر گوشوں کی لاشیں اٹھائے بین کر رہی ہیں، اور دنیا کے سب سے بڑے کھلے قید خانے میں انسانیت سسک رہی ہے۔ ایسے عالم میں جب امت مسلمہ بے حسی کی گہری نیند سو رہی ہے، ہمیں اپنی تاریخ کے ان روشن ابواب کی طرف لوٹنا ہوگا جو عزم، ہمت اور استقامت کا سبق دیتے ہیں۔ ان ہی ابواب میں سب سے تابناک نام صلاح الدین ایوبی کا ہے۔ جو ظلمت کے مقابلے میں عدل، بزدلی کے مقابلے میں جرأت، اور شکست کے مقابلے میں ایمان و استقامت کی علامت ہیں۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کامیابی کا راز لشکروں کی کثرت یا اسلحے کی برتری میں نہیں، بلکہ ایمان، اخلاص اور عدل میں ہے۔ اکثر ہم سوچتے ہیں کہ ’’ہم جیسے کمزور لوگ کیا کر سکتے ہیں؟‘‘ مگر درحقیقت اصل جنگ ظاہری دشمن سے نہیں، بلکہ اپنے اندر کے خوف، مفاد پرستی اور بے عملی سے لڑی جاتی ہے۔ جب انسان اپنے ارادے کو خالص کر لیتا ہے اور اللہ پر توکل کرتا ہے، تو وہ واحد فرد بھی تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے سیاست کو ذاتی مفاد یا اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ حق کے قیام اور مظلوموں کی آواز بنانے کا وسیلہ بنایا۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی ذات سے بڑھ کر دوسروں کے لیے کھڑا ہونا پسند کیا۔ انہوں نے منظور پشتین اور اس کے ساتھیوں کے حقوق پر بات کی، مہ رنگ بلوچ کے احتجاجی دھرنے میں کھلے عام ظلم کی مذمت کی، عمران خان کی گرفتاری کے خلاف دو ٹوک مؤقف اپنایا، مگر افسوس! جن کے لیے وہ بولے، وہی آج ان کے ذکر پر خاموش ہیں۔ نہ پی ٹی ایم کے قائدین بولے، نہ وہ سیاستدان جن کے لیے انہوں نے پارلیمان میں آواز اٹھائی، اور نہ وہ میڈیا جو انصاف کے نام پر نعرے لگاتا ہے۔ یہی وقت ہوتا ہے جب تاریخ سچ اور جھوٹ کے درمیان لکیر کھینچتی ہے۔ اقتدار، شہرت، اور ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز وقتی عزتیں ہیں، مگر اصول، قربانی اور استقامت وہ خزانہ ہیں جو صدیوں بعد بھی انسان کو امر کر دیتے ہیں۔ سینیٹر مشتاق احمد خان آج اسی روایت کے امین ہیں۔ انہوں نے خود کو اس راستے پر ڈالا ہے جہاں صرف یقین ہے، قربانی ہے، اور اللہ کی رضا کا وعدہ۔ ان کا سفر محض ایک سیاسی جدوجہد نہیں، بلکہ فکری اور روحانی مزاحمت کی علامت ہے۔
وہ سید ابوالاعلیٰ مودودی کے فکری وارث ہیں، جنہوں نے سیاست کو عبادت اور خدمت ِ خلق کا ذریعہ قرار دیا تھا۔ وہ جانتے ہیں کہ اگر سیاست عبادت نہ بنے تو وہ لعنت ہے، اور اگر عبادت میں اجتماعی خیر شامل نہ ہو تو وہ ادھوری ہے۔ اسی لیے وہ اپنی سیاست کو ایمان، اخلاق، عدل اور جرأت کے امتزاج سے مزین رکھتے ہیں۔ وہ پارلیمان میں کھڑے ہو کر ظالموں، دجالی ایجنڈوں اور عالمی منافقت کو بے نقاب کرتے ہیں، اور جب غزہ کے بچوں پر بم گرتے ہیں تو وہ پاکستان کے ایوانوں کو جھنجھوڑتے ہیں۔ ان کی آواز محض سیاسی نہیں یہ امت کے درد، ایمان اور غیرت کی صدا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو ہمیں طارق بن زیاد کے ایمان کی یاد دلاتا ہے۔ جب انہوں نے اندلس کے ساحل پر کشتیاں جلا دیں اور اپنے ساتھیوں کو للکار کر کہا: ’’پیچھے سمندر ہے اور آگے دشمن کا لشکر، اب واپسی نہیں؛ اب صرف فتح ہے یا شہادت!‘‘ اسی ایمان نے آٹھ سو سالہ اسلامی تہذیب کی بنیاد رکھی۔ آج یہی ایمان، یہی یقین اور یہی استقامت سینیٹر مشتاق احمد خان کی آنکھوں میں جھلکتی ہے۔ انہوں نے بھی اپنی کشتیاں جلا دی ہیں۔ اب ان کے لیے کوئی واپسی نہیں، صرف جدوجہد ہے، صرف ایمان ہے، صرف اللہ کا بھروسا ہے۔
ہم بطور امت ایک المیے کا شکار ہیں۔ ہم نے صلاح الدین جیسے ہیروز کو تاریخ کی کتابوں، نصابی ابواب اور تقریروں تک محدود کر دیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا آئے اور ہماری لڑائیاں لڑے، مگر ہم خود اپنی بزدلی اور مفاد پرستی میں غرق ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ سچ بولنے کی قیمت ہے، مگر ہم یہ قیمت ادا کرنے سے گھبراتے ہیں۔ ہماری مسجدیں آباد ہیں مگر ضمیر ویران۔ ہماری زبانیں تلاوت میں مصروف ہیں مگر دل عدل سے خالی۔ ایسے وقت میں جب مصلحت پرستوں کی زبانیں بند ہیں، مشتاق احمد خان جیسے لوگ امت کے لیے امید کا چراغ ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ اگر نیت خالص ہوتو ایک فرد بھی تاریخ بدل سکتا ہے۔ اگر دل میں یقین ہو تو لشکر بنائے بغیر بھی باطل کے ایوان ہلا سکتے ہیں۔ یہی وہ سبق ہے جو صلاح الدین ایوبی کی سیرت ہمیں دیتی ہے۔ انہوں نے بیت المقدس کو صرف تلوار سے نہیں بلکہ عدل، ایمان اور رحم سے فتح کیا۔ انہوں نے دشمن کے ساتھ بھی انصاف کا برتاؤ کیا اور دنیا کو دکھایا کہ مسلمان جب کھڑا ہوتا ہے تو صرف زمین نہیں، ضمیر بھی فتح کرتا ہے۔ ان کی سیرت ہمیں بتاتی ہے کہ قیادت کے معنی اقتدار نہیں بلکہ خدمت ہے، اور طاقت کا مقصد ظلم نہیں بلکہ انصاف ہے۔ مشتاق احمد خان بھی اسی روایت کے وارث ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ اگر ایمان زندہ ہو تو ہر شہر ِ عزیمت، ہر غزہ، اور ہر بیت المقدس ایک دن ضرور آزاد ہوگا۔
یہ کالم دراصل ایک پیغام ہے ان سب کے لیے جو سمجھتے ہیں کہ حق کے لیے کھڑا ہونا بیکار ہے۔ نہیں! حق کے لیے اٹھایا گیا ہر قدم تاریخ میں اپنی جگہ بناتا ہے۔ آج گلوبل صمود فلوٹیلا کی کامیابی، دنیا بھر میں اسرائیل کے خلاف نفرت کا بڑھتا ہوا طوفان، اور سینیٹر مشتاق احمد خان جیسے رہنماؤں کی استقامت ثبوت ہیں کہ باطل کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کی روشنی کبھی بجھ نہیں سکتی۔ ہمیں یہ یقین رکھنا ہوگا کہ اللہ کی نصرت اْنہی کے ساتھ ہے جو اس کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی ایمان، یہی استقامت اور یہی قربانی صلاح الدین کا ورثہ ہے اور یہی ورثہ آج سینیٹر مشتاق احمد خان نے سنبھالا ہے۔
آخر میں دعا ہے: اے اللہ! جس طرح تو نے صلاح الدین ایوبی کو اپنے دین کی سربلندی کے لیے منتخب کیا، اسی طرح ہمارے دور میں بھی حق کے علمبرداروں کو اپنی نصرت عطا فرما۔ مشتاق احمد خان کی استقامت کو مضبوط کر، ان کے لیے کامیابی کے دروازے کھول دے، اور پاکستان کو ایسے ہی باکردار، باایمان اور بااصول رہنماؤں سے نواز دے۔ آمین۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سینیٹر مشتاق احمد خان صمود فلوٹیلا صلاح الدین نہیں بلکہ انہوں نے اور یہی کہ اگر کے لیے ہیں کہ اور اس ہے اور رہی ہے
پڑھیں:
کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔
بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔
بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔
یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں
خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔
ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔
مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟
چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔
اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔
یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔
نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔
دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔
واپس لاہور آتے ہیں۔
آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔
ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔
آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟
مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی
شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر