کسٹم اپیلٹ ٹربیونل نے گلگت بلتستان سے متعلق 85 درخواستوں پر فیصلہ سنادیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
کسٹم اپیلٹ ٹربیونل نے گلگت بلتستان سے متعلق 85 درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا۔
کسٹم اپیلٹ ٹربیونل نے 2 ہفتوں میں 85 اپیلوں پر سماعت مکمل کی، چیئرمین حافظ انصار الحق اور ممبر ٹیکنیکل عبدالوحید مروت پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کسٹمز سے متعلق اپیلوں پر سماعت کی، ٹربیونل نے کسٹمز کو سامان دوبارہ چیک کرنے اور منصفانہ معائنہ کی ہدایت کردی۔
ٹربیونل نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے نمائندے کی موجودگی میں سامان کا دوبارہ معائنہ کیا جائے، ڈیوٹی و ٹیکس کی ادائیگی کے بعد سامان جاری کیا جا سکتا ہے۔
ٹربیونل نے کہا کہ موجودہ امپورٹ پالیسی کی خلاف ورزی والا سامان ضبط رہے گا، درخواست گزاروں کے تمام جرمانے اور سزائیں ختم کی جاتی ہیں۔
فیصلے کے مطابق اپیل کنندگان پر درآمدی سامان میں غلط بیانی کا الزام تھا، سامان سُست ڈرائی پورٹ گلگت بلتستان پر درآمد کیا گیا تھا، کسٹمز کے مطابق سامان کی تفصیل اور مقدار میں تضاد پایا گیا، ڈیوٹی و ٹیکس چوری کا الزام 1 کروڑ 92 لاکھ روپے سے زائد تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ کلکٹر نے سامان ضبط کرنے اور 20 فیصد جرمانہ عائد کرنے کا حکم دیا تھا، اپیل کنندگان نے فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے دوبارہ معائنے کی استدعا کی، سامان ابھی تک پورٹ پر موجود ہے، ڈیوٹی و ٹیکس چوری ثابت نہیں ہوئی۔
ٹربیونل نے کہا کہ تمام کنسائنمنٹس 100 فیصد کسٹمز معائنے کے تحت ہیں، کسٹم اپیلٹ ٹربیونل میں زیر سماعت درخواستوں کی ویلیو 13 ارب سے زائد کی تھی، کسٹم اپیلٹ ٹربیونل گزشتہ 14 مہینوں میں 1 کھرب اور 9 سے زائد مالیت کی درخواستوں کو نمٹا چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کسٹم اپیلٹ ٹربیونل ٹربیونل نے
پڑھیں:
گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف —فائل فوٹومسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے، کسی پارٹی نے یہاں کسی منصوبے کی اینٹ بھی نہیں لگائی، جس جی بی کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا۔
گلگت میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ ایئر پورٹ کے باہر اس کی سڑکوں کا حلیہ دیکھا تو افسوس ہوا، جو منصوبے ہم نے شروع کیے تھے وہ مکمل کیوں نہیں ہوئے؟ آخر وہ پیسہ کہاں لگایا گیا؟
نواز شریف کا کہنا ہے کہ جو سڑک میں نے شروع کی اسے خنجراب تک پہنچنا چاہیے تھا، ووٹ ملتا ہے یا نہیں، اللّٰہ جانتا ہے، ہم آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کر سکتے۔
اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور حمزہ شہباز سمیت پارٹی کے پارلیمانی رہنماؤں نے شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ آپ ووٹ دیں گے یا نہیں دیں گے، میں تب بھی آپ کے لیے بات کروں گا، شہباز شریف اور مریم نواز دونوں کو کہوں گا کہ یہاں آئیں، ایئر پورٹ کو بڑا کر کے یہاں بوئنگ طیارے آنے چاہیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ شہباز شریف سے کہوں گا کہ ایئر پورٹ کو بڑا کریں گے، میں ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آتا جاتا رہوں گا اور منصوبوں کی نگرانی کروں گا۔
اس سے قبل نواز شریف بذریعہ طیارہ گلگت پہنچے تھے، وفاقی وزیر امیر مقام، سابق وزیرِ اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن نے ایئر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔
وفاقی وزراء خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا ثناء اللّٰہ، سینیٹر پرویز رشید، پنجاب کی وزیر مریم اورنگزیب، سینیٹر انوشہ رحمٰن، کاظم پیرزادہ نواز شریف کے ہمراہ گلگت پہنچے ہیں۔
ترجمان مسلم لیگ ن شمس میر کے مطابق نواز شریف گلگت بلتستان میں ن لیگ کے امیدواروں، صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی عہدیداران سے ملاقاتیں اور خطاب کریں گے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر الیکشن 7 جون کو ہو گا۔